BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 August, 2006, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاک انڈیادوستی سبوتاژ نہ کریں‘

 پاکستان کے وزیرِاطلاعات محمد علی درانی
’دونوں ملکوں کے عوام کی شدت سے خواہش ہے کہ مستقل امن قائم ہو‘
پاکستان کے وزیرِاطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور ہندوستان میں جو لیڈر شپ امن عمل کو سبوتاژ کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی وہ غیر مقبول ہوجائے گی کیونکہ اب، ’دونوں ملکوں کے عوام کی شدت سے خواہش ہے کہ مستقل امن قائم ہو‘۔

وفاقی وزیر لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ بھی ان ملکوں کی طرح ترقی کریں جنہوں نے امن کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کے راستے تلاش کیئے۔

تاہم پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی، ہندوستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی آگے بڑھنا ہوگا۔

محمد علی درانی کی پریس کانفرنس سے ایک روز قبل ہی دونوں ملک ایک دوسرے کے ایک ایک سفارتکار کو اپنے اپنے ملک سے نکل جانے کا حکم دے چکے ہیں۔

پاکستانی وزیر اطلاعات نے براہ راست اس واقعے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ لمبے عرصے سے دونوں ملکوں میں جاری امن عمل پر کوئی ٹھوس اور مثبت پیش رفت نہیں ہو رہی اور پاکستان کی لیڈر شپ جس اعتماد اور گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کا ویسا جواب نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان الزام تراشیوں کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور اس نے کبھی بھی شواہد کے بغیر کوئی ذمہ داری ہندوستان پر عائد نہیں کی تاہم وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’ہم افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے پاس انڈین قونصل خانوں کی اتنی بڑی تعداد کے بارے میں ہندوستان سے سوال اٹھانا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی سرحد کے پاس ہندوستانی قونصل خانوں کی اتنی بڑی تعداد کا کام کرنا ہی ایک سوالیہ نشان ہے اور پاکستان اس حوالے سے ہونے والی مداخلت کے بارے میں الگ الگ مواقع پر مختلف ذرائع سے انڈیا کو باور بھی کراتا رہا ہے‘۔

انڈیا نے ممبئی دھماکوں کے بعد مذاکرات ملتوی کردیے تھے

انہوں نے کہا کہ’ افغانستان اور پاکستان کےعوام میں دوستی کا ایک قدرتی رشتہ ہے اور اس رشتے میں رکاوٹ کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی‘۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ ’ان تمام حالات کے باوجود پاکستان ہر حال میں امن عمل جاری رکھنا چاہتا اور یہ خواہش کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس خطے کے عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہے‘۔

انہوں نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ پائیدار امن کے لیئے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ پاکستان اور بھارت کے درمیان حتمی امن کے تمام راستے کشمیر سے گذرتے ہیں‘۔

تقریبا پون گھنٹے تک جاری رہنے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات نےکارگل کے بارے میں پوچھے گئے کئی سوالوں کا جواب نہیں دیا تاہم صدر کی وردی، آئندہ انتخابات اور حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے اپنے روایتی موقف کا اعادہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد