سفارتکاروں کی ملک بدری کے حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہفتے کے روز پاکستان اور پھر انڈیا نے ایک دوسرے کے ایک ایک سفارتکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پاکستان نے ہفتے کے روز ایک انڈین سفارتکار کو سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس سفارتکار کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔ تسنیم اسلم نے بتایا کہ اس سفارتکار کو اسلام آباد کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے جگہ کی نشاندہی نہیں کی اور نہ یہ ان کارروائیوں کی تفصیل سے آگاہ کیا جن کی بنا پر انڈین سفارت کار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اس سفارتکار کا نام دیپک کول ہے اور یہ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن میں ویزا کونسلر کے فرائض انجام دے رہے تھا۔ ادھر دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انڈیا نے سنیچر کے روز ایک پاکستانی سفارتکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا۔ خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق پاکستانی سفارتکار کا نام سید محمد رفیق احمد ہے۔ وزارت خارجہ نے محمد رفیق احد کو بھارت چھوڑنے کے لیے اڑتالیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ وزارت خارجہ نے پہلے پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر افراء سیاب کو اپنے دفتر طلب کیا تھا اور اپنے افسر دیپک کول کے ساتھ کیے گئے سلوک پر احتجاج کیاہے۔ | اسی بارے میں خارجہ سیکرٹری مذاکرات ملتوی14 July, 2006 | انڈیا سفارتکار کے اغوا اور قتل کا مقدمہ05 November, 2004 | پاکستان پاکستانی لڑکے کا اغوا، تفتیش جاری 09 November, 2005 | پاکستان ’تمام گروہوں سے بات پر تیار ہیں‘ 31 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||