پاکستانی لڑکے کا اغوا، تفتیش جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا کہنا ہے کہ دلّی میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے کے ایک رکن کے بیٹے کو اغوا کرنے کے بعد اسے لاشوں کے ساتھ لٹا کر تصاویر کھینچی گئی ہیں۔ پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے دلی میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کے بیٹے کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور ہراساں کیے جانے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی حکومت سے اس واقعہ پر جواب مانگا ہے۔ دریں اثناء ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستانی لڑکے کا مبینہ طور پر اغوا کے معاملے کی تفتیش کی جاری ہے۔ ادھر دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ انکے ملازم کے ایک لڑکے کو اغوا کیا گیا تھا اور تقریبا بیس گھنٹے بعد اسے رہا کردیا گیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ انیس سالہ روشن علی کو جو دلی میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کے بیٹے ہیں کو مبینہ طور پر دلی میں منگل کے روز اغوا کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق روشن علی کو ایک ایسے کمرے میں لے جایاگیا جہاں تین لاشیں پڑی ہوئی تھیں اور وہاں ان کے ہاتھ میں چاقو تھما کر ان کی تصاویر بھی لی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق روشن علی کو آٹھ گھنٹے تک ہراساں کرنے کے بعد اغوا کار منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک گاڑی سے نیچے پھینک کر چلے گئے۔ حکام نے الزام لگایا ہے علی کی جیب سے ایک تنبیہی رقعہ بھی ملا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ اگر وہ اور ان کے والد پانچ روز تک دلی سے نہیں گئے تو روشن علی کو مار دیا جائے گا۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے پاکستانی حکام کو اس واقعے کی تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے اور کہا ہے کہ ان تحقیقات سے پاکستانی حکومت کو مطلع کیا جائے گا۔ ادھر وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام لگایا ہے کہ روشن علی کو بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا تھا۔ دلی میں ہندوستان کی وزارت خارجہ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ملازم کے لڑکے کے میبنہ طور پر اغوا کا معاملہ اس کے سامنے آیا ہے اور اسکی تفتیش کی جارہی ہے‘۔ بیان کے مطابق اس کے متعلق سوالات کیے گیے تھے اسی لیے وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا تھا کہ سفارت خانے کے ایک ملازم کے لڑکے کو اغوا کیا گیا تھا جسے اب رہا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا شدہ لڑکا دلی کے مشہور کالج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا طالب علم ہے اور اسے گزشتہ روز شام پانچ بجے کے بعد کچھ نامعلوم افراد پکڑ کر لے گیے تھے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ کالج سے نکلتے وقت ساڑھے پانچ بجے کے وقت چند افراد اسے گاڑیوں میں اٹھا کر لے گئے تھے۔ اسکی آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا گیا تھا اور رات بھر اسے نا معلوم جگہ پر رکھا گیا۔ بدھ کے روز دو پہر بعد اسے انڈیا گیٹ کے پاس چھوڑ دیا گیا تھا جہاں سے وہ سفارت خانے پیدل چل کر آیا ہے۔ اسکی حالت بہت خراب تھی اور وہ بہت پریشان تھا‘۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے بعد تین برس میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے اہلکار کے بیٹے کو اغوا کر کے ہراساں کیا گیا ہے۔ لیکن سفارتی عملے کے ساتھ نازیبا سلوک کے سبب وقتا فوقتا دونوں میں تلخی پیدا ہو تی رہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی کی بات ہے شناختی کارڈ نا ہونے کے سبب پہلے پاکستانی سفارتخانے کے ایک ڈرائیور کو تھانے پر لے جایا گیا تھا۔ بعد میں جب اس ڈرائیور کی رہائی کے لیے ایک افسر پولیس اسٹیشن پہنچے تو شناختی کارڈ نا ہونے کے سبب انہیں بھی کافی دیر تک وہاں رکنا پڑا۔ حکام کی مداخلت سے معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا لیکن خبروں کے مطابق پاکستان نے اس رویے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ | اسی بارے میں بھارتی سفارتکار ملک بدر23.01.2003 | صفحۂ اول بھارت چھوڑنےکا مشورہ31.05.2002 | صفحۂ اول پاکستان سے دو بھارتی سفارتکاروں کا اخراج19.03.2002 | صفحۂ اول سفارتی عملہ: تعداد میں اضافے پر اتفاق15 January, 2004 | پاکستان پاکستان سے دو بھارتی سفارتکاروں کا اخراج19.03.2002 | صفحۂ اول سفارتکاروں کے تحفظ کا ادارہ قائم 14.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||