BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 June, 2006, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وولر بیراج: پاک انڈیا مذاکرات

وولر بیراج پر دو ہزار چار میں ہونے والے مذاکرات
ماہرین کا خیال ہے کہ مسئلہ تکنیکی سے زیادہ اعتماد کا ہے
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے جہلم پر بننے والے متنازعہ وولر بیراج یا ’تل بل نیوی گیشن‘ منصوبے کے بارے میں دو روزہ بات چیت جمعرات کو اسلام آباد میں شروع ہوئی۔

دن کی ابتدائی بات چیت کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔ تاہم فریقین کا کہنا ہے بات چیت مثبت ماحول میں ہو رہی ہے۔ وولر بیراج پر جمعہ کے روز حتمی دور کے بعد امکان ہے کہ مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔

پانی سے متعلق امور کی وزارتوں کے سیکرٹریوں کی سطح پر وولر بیراج کے تنازعے پر بات چیت کے دوران بھارتی وفد کی قیادت جے ہری نارائن اور پاکستانی وفد کی سربراہی اشفاق محمود نے کی۔

باضابطہ مذاکرات سے قبل بھارتی وفد کے سربراہ نے صحافیوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ وہ تُل بُل نیوی گیشن کے منصوبے پر بات چیت کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان نے اِس منصوبے کو وولر بیراج جبکہ بھارت نے اُسے تل بل نیوی گیشن کا نام دے رکھا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں وولر بیراج کا تنازعہ گزشتہ بیس برس سے چل رہا ہے اور تاحال دونوں ممالک اپنے موقف پر ڈٹے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ وادیِ کشمیر میں سوپور کے قریب دریائے جہلم پر بھارت نے انیس سو چوراسی میں جب اس متنازعہ منصوبے کا آغاز کیا تو پاکستان نے اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ بھارت انیس سو ساٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے ’واٹر کمیشن‘ کے ماہرین کے درمیان بات چیت شروع ہوئی اور جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو پاکستان نے عالمی عدالت میں جانے پر غور شروع کیا اور بھارت نے اس مجوزہ منصوبے پر کام روک دیا۔

بھارت دریائے جہلم پر بیراج بنا کر ایک جھیل بنانا چاہتا ہے جس میں 0.324 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ معاہدے کے مطابق بھارت 0.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔

منگلا ڈیم
سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے جہلم پر پاکستان کا حق ہے جس پر اس نے منگلا ڈیم بنا رکھا ہے

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حصے کے مطابق ہی پانی ذخیرہ کرے گا۔ لیکن پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت اس منصوبے کا ڈیزائن تبدیل کرے۔

پاکستان کو خدشہ ہے کہ بھارت اس منصوبے کو اس کے خلاف ’سٹریٹجک ویپن‘ یعنی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا اور اس کی تین نہروں اپر جہلم، اپر چناب اور لوئر باری دوآب کینال میں پانی کی قلت پیدا ہوگی۔

بھارت اور پاکستان کے واٹر کمیشن کے سربراہان کی سطح پر پچیس اور چھبیس تاریخ کو لاہور میں بات چیت ہونی ہے جس میں سیلاب وغیرہ کی صورت میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرنے کے معاہدے کی توثیق بھی متوقع ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ بھارت کے واٹر کمیشن کے سربراہ ڈی کے مہتا اپنے بھائی کی وفات کی وجہ سے عین وقت پر پاکستان نہ آسکے۔ ان کے مطابق لاہور کی بات چیت میں بھارت کی نمائندگی اب ایس سی گپتا کریں گے۔

آبی ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں اس منصوبے کے بارے میں فنی نوعیت سے زیادہ خدشات اعتماد سازی کے فقدان کی وجہ سے ہیں۔

یاد رہے کہ جامع مذاکرات میں جن آٹھ نکات پر تیسرے دور میں سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت ہونی تھی ان میں وولر بیراج اب آخری نکتہ ہے۔ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری پہلے سے اعلان کرہ شیڈول کے تحت انیس اور بیس جولائی کو دلی میں تمام امور پر پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

خارجہ سیکرٹریوں کے بعد بیس اور اکیس جولائی کو دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہونا ہے لیکن تاحال بھارت نے وفاقی وزیر خارجہ کو نامزد نہیں کیا۔ اگر بھارت نے اپنا وزیر خارجہ مقرر نہیں کیا تو خدشہ ہے کہ شاید اس شیڈول میں ردو بدل ہو۔

اسی بارے میں
سیاچن مذاکرات پھر شروع
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد