BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کا اعلان

بھارت کے داخلہ سکریٹری وی کے دگل اور ان کے پاکستانی ہم منصب سید کمال شاہ
بھارت کے داخلہ سکریٹری وی کے دگل اور ان کے پاکستانی ہم منصب سید کمال شاہ
پاکستان اور بھارت، دونوں ممالک کے غیر فوجی قیدیوں اور گرفتار ماہی گیروں کو رہا کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں اور بیشتر قیدیوں کی رہائی اس ماہ کے آخر تک عمل میں آ جائے گی۔

حکام نے اسلام آباد میں دو روزہ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کریں گے۔

اسلام آباد میں داخلہ سیکریٹریوں کے درمیان دو روزہ مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں غلطی سے سرحد پار کر جانے والے افراد، بچوں، بوڑھوں اور معذور افراد کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک نے منشیات کے خاتمے،انسانی سمگلنگ اور جعلی کرنسی کے کاروبار کی روک تھام کے لیئے مشترکہ اقدامات کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

 بدھ کو پاکستان کے کچھ اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں کہ دونوں ممالک نے مبینہ دہشت گردوں کیفہرستوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ نے اس خبر کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اس دو روزہ بات چیت کی صرف مثبت باتوں کو اجاگر کرے

اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سکریٹری داخلہ کمال شاہ نے کہا کہ ان دو روزہ مذاکرات میں بہت مفید بات چیت ہوئی ہے اور تمام معاملات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ بھارت نے اس بات چیت میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دراندازی کے الزامات اور پاکستان نے افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کی مشکوک سرگرمیوں کے الزامات پر کوئی بات کی یا نہیں۔

بدھ کو پاکستان کے کچھ اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں کہ دونوں ممالک نے مبینہ دہشت گردوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ سکریٹری داخلہ نے اس خبر کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اس دو روزہ بات چیت کی صرف مثبت باتوں کو اجاگر کرے۔

کمال شاہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس وقت چار سو بہتر قیدی ہیں جن میں سے اکثر تک پاکستانی ہائی کمیشن کی رسائی ہو چکی ہے اور امید ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اس ماہ کے آخر تک رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم ان میں سے ایک سو سینتالیس پاکستانی قیدیوں تک ابھی ہائی کمیشن کی رسائی نہیں ہوئی ہے جن تک رسائی ہونے کے بعد ان کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

کمال شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی جیلوں میں اس وقت پانچ سو پینتالیس بھارتی ماہی گیر اور غیر فوجی قیدی ہیں جن میں سے دو سو اکسٹھ تک بھارتی ہائی کمیشن کی رسائی ہو گئی ہے اور ان کو اس ماہ کے آخر تک رہا کر دیا جائے گا۔

بھارتی سکریٹری داخلہ وی کے دگل نے کہا کہ اس بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور مفاہمت اور دیرینہ امن قائم کرنا تھا اور دو روزہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد