BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 20:20 GMT 01:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی معاملات پر دو روزہ مذاکرات

اسلام آباد
بھارتی ہوم سیکریٹری وی کے دوگل پیر کی شب اسلام آباد پہنچے
پاکستان اور بھارت کے اعلی سطح کے سکیورٹی حکام کے درمیان دہشت گردی، غیر فوجی قیدیوں کی جلد رہائی اور انسداد منشیات میں باہمی تعاون پر دو روزہ بات چیت اسلام آباد میں جاری ہیں۔

پاکستانی حکام نے پیر کےروز صحافیوں کو اس بات چیت کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس اس وقت پانچ سو ستائیس بھارتی قیدی موجود ہیں جن میں سے بیشتر تک بھارتی ہائی کمیشن کی رسائی ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق بھارت میں اس وقت چار سو بہتر پاکستانی قید ہیں جن میں سے بیشتر تک پاکستانی ہائی کمیشن کو رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

اس بات چیت سے قبل دونوں ممالک نے آج سمندری حدود کی خلاف ورزی پر پکڑے جانے والے ماہی گیروں کو بھی رہا کیا ہے۔ بھارت نے انسٹھ پاکستانی ماہی گیروں کوجبکہ پاکستان نے اکھتر ماہی گیروں کو رہا کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے حکام اس بات چیت میں ایک ایسی مفاہمتی یاداشت کو حتمی شکل دینے پر غور کر رہے ہیں جس کے مطابق دونوں ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کو غلطی سے سرحد پار کرنے یا سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی گرفتاری کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے اور تین ماہ کے اندر اندر ان کو رہا کیا جائے گا۔

اس بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت داخلہ کے سیکریٹری سید کمال شاہ جبکہ بھارتی وفد کی قیادت بھارت کے ہوم سیکریٹری اے کے دوگل کریں گے۔

بھارتی ہوم سیکریٹری وی کے دوگل نے پیر کی شب اسلام آباد پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دو روزہ بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، منشیات کے خاتمے کے لیئے تعاون اور معلومات کے تبادلے پر بات ہو گی اور توقع ہے کہ انسداد منشیات پر مفاہمتی یاداشت کو بھی حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی سی بی آئی یعنی کرمنل بیورو آف انویسٹیگیشن اور پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے درمیان بھی تعاون بڑھانے پر بات کی جائے گی۔

تاہم اے کے دوگل کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر اختلافات فوری طور پر دور نہیں ہو سکتے مگر آہستہ آہستہ دونوں ممالک اس طرف بڑھ رہے ہیں۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ اس بات چیت میں کشمیر کے مسئلے پر بات ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں دونوں ممالک کے رہنما بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں مماالک کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ یا ایکسٹرڈّیشن ٹریٹی ایک ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر فوری طور پر اتفاق ہو جائے تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس سے متعلق کئی معاملات پر آئندہ دو روز میں بات چیت ہو گی۔

اسی بارے میں
سیاچن مذاکرات پھر شروع
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد