BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 18:17 GMT 23:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن سنگھ کے بیان کا خیر مقدم

بات چیت (فائل فوٹو)
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیگر تنازعات بھی طےکرنا چاہتا ہے (فائل فوٹو)
پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

دفتر خارجہ سے جمعہ کی شام جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں انہیں بھارت سے کچھ تجاویز وصول ہوئی ہیں اور پاکستان ان کا جواب دے رہا ہے تاکہ جامع مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے اور تنازعہ حل کرنے میں پیش رفت ہو۔ تاہم پاکستان حکومت نے نئی بھارتی تجاویز کا تفصیل نہیں بتایا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اعلیٰ سطح پر پہلے ہی کہتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور موزون عالمی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام اختلافات کی جڑ یعنی کشمیر مسئلے کو حل کیا جائے۔

پاکستان یہ بھی کہتا آیا ہے کہ اب معاملات کو اعتماد سازی کے اقدامات سے آگے بڑھانا چاہیے اور بنیادی مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بحث کرنی چاہیے اور کشمیریوں کو بات چیت میں شریک کیا جائے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی تقریر کے کئی مثبت اور اہم نکات کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر انہوں نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کی بات کی ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کنٹرول لائن کی دونوں جانب کے کشمیریوں کے درمیان بات چیت کا حامی ہے اور اس لیے ہی انہوں نے پانچ مقامات پر کشمیریوں کی ملاقات کے مراکز کی تجویز پیش کی اور اس پر عمل بھی ہوا۔ انہوں نے مظفرآباد سے سری نگر تک ٹرک سروس اور بس سروس کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام دیگر تنازعات بھی طےکرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں کی گئی کوششوں کی وجہ سے وہ سیاچین اور سرکریک کے معاملات پر پیش رفت کی توقع کر رہے تھے۔

بیان کے مطابق گزشتہ مارچ میں اس کے متعلق بھارتی وزیراعظم کے بیان نے بڑی امید پیدا کی تھی لیکن وہ سیاچین اور سرکریک پر حالیہ بات چیت میں ظہور پذیر نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں
پاک بھارت مشترکہ گشت
14 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد