پاک بھارت مشترکہ گشت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے جموں اور سیالکوٹ کی سرحد پر مشترکہ گشت پر اتفاق کیا ہے۔ اس بات کا اعلان آج لاہور میں سرحدوں کی نگرانی کرنے والی پاکستان کی نیم فوجی تنظیم رینجرز اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ یہ پریس کانفرنس جمعہ کو دونوں تنظیموں کے لاہور میں ہونے والے ششماہی اجلاس کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ پریس کانفرنس سے بھارتی وفد کے قائد اور بی ایس ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نریندر پال اولکھ اور رینجرز پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل حسین مہدی نے خطاب کیا۔ دو طرفہ بات چیت میں سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل جاوید ضیاء بھی شریک ہوئے تھے۔ حسین مہدی نے کہا ہے کہ جموں سیالکوٹ سرحد پر مشترکہ گشت شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جن جگہوں پر تنازعات ہیں انہیں حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ مزید کم ہوگا۔ ان کے بقول فیصلہ کیاگیا ہے کہ جن علاقوں میں سرحدی تنازعے ہیں وہ سیکٹر کمانڈر اور ونگ کمانڈر کی سطح پر حل کیے جائیں گے۔
حسین مہدی نے کہا کہ سیالکوٹ اور جموں کی سرحد پر بھارت نے جو دفاعی تعمیرات کی ہیں اور خیمے لگائے ہیں ان پر پاکستان کو اعتراض ہے لیکن یہ تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا اور اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بھارت کی بی ایس ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نریندر اولکھ نے کہا کہ بھارت کا موقف ہے کہ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان بین الاقوامی سرحد ہے جبکہ پاکستان کے موقف کے مطابق یہ ورکنگ باؤنڈری ہے۔ حسین مہدی نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگر کوئی شخص غلطی سے سرحد پار کر جائے اور متعلقہ فریق اس کی شناخت کرلے تو اسے بہتّر گھنٹوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ پریس بریفنگ کے مطابق دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو اپنے قیدیوں کی فہرستیں بھی دی ہیں۔ رینجرز نے بھارت کی جیلوں میں قید اپنے دو سو دس شہریوں کی فہرست بی ایس ایف کو دی ہے تاکہ انہیں رہا کیا جائے جبکہ بی ایس ایف نے پاکستان میں قید اپنے بارہ قیدیوں کی فہرست مہیا کی ہے۔ بی ایس ایف کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل نے تین ایسے قیدیوں کی فہرست بھی پاکستان کے حوالے کی ہے جو ان کے مطابق جنگوں میں پکڑے گئے قیدی ہیں۔ تاہم پنجاب رینجرز کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا پہلے ہی دو بار معائنہ کیا جاچکا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں کوئی بھارتی جنگی قیدی موجود نہیں ہے تاہم پاکستان ایک بار پھر اس کا جائزہ لے گا۔ پریس بریفنگ کے مطابق دونوں ملکوں نے سرحدوں پر اور دریائی علاقوں میں ستونوں کی تعمیر و مرمت اور اسمگلنگ روکنے کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ رینجرز نے کہا کہ بھارت نے سندھ کی سرحد پر اس کے مطالبہ کے مطابق روشنیوں کا رخ پاکستانی علاقہ سے موڑ دیا ہے۔ بی ایس ایف کے نریندر اولکھ نے کہا کہ پاکستان رینجرز نے اب اسے دوسرے علاقوں میں بھی سرحدی روشنیوں یا سرچ لائٹوں کی فہرست مہیا کی ہے جن کی سمت کے از سر نو تعین کی ضرورت ہے۔ رینجرز اور بی ایس ایف کا کہنا تھا کہ دونوں کی بات چیت دوستانہ اور مثبت ماحول میں ہوئی۔ بھارتی وفد گیارہ اپریل کو لاہور آیا تھا اور چودہ اپریل کو واپس چلا گیا۔ بات چیت کا اگلا دور اس سال ستمبر یا اکتوبر میں بھارت میں ہوگا۔ | اسی بارے میں ’امن کی راہ سے واپسی ناممکن ہے‘ 18 April, 2005 | انڈیا مذاکرات جاری رہیں گے: مشترکہ اعلان18 April, 2005 | انڈیا پائپ لائن پر بات چیت بامعنی رہی13 July, 2005 | انڈیا ایل او سی کا ’فلاپ ڈرامہ‘12 November, 2005 | انڈیا ہند و پاک تجارت: 76 فیصد کا اضافہ13 January, 2006 | انڈیا ہند پاک تفتیشی اداروں کے مذاکرات 22 March, 2006 | انڈیا ’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘18 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||