BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند پاک تفتیشی اداروں کے مذاکرات

انڈیا اور پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کے سربراہ
انڈیا کے تحقیقاتی ادارے کے سربراہ پاکستانی وفد کے سربراہ کا خیر مقدم کر رہے ہیں
ہندوستان کے تفتیشی ادارے سی بی آئی اور پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے منظم جرائم پر قابو پانے کے لیےمشترکہ کارروائی پر متفق ہوگئے ہیں۔

دونوں ملکوں نے اپنی تحقیقاتی ایجنسیوں کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ نقلی نوٹوں اور غیر قانونی آبادکاری جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

دارالحکومت دلی میں تکنیکی سطح کی دوروزہ بات چیت کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ بات چیت میں ہندوستان کے مرکزي تفتیشی بیورو سی بی آئی کے ڈائریکٹر وجے شنکر انڈین وفد کی سربراہی کر رہے تھےاور پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے ڈاکٹر طارق پرویز پاکستانی وفد کے سربراہ تھے۔

بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف ائی اے کے ڈائریکٹر طارق پرویز نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کی تفتیشی ایجنسیوں نے قانون کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

سی بی آئی کے ڈائریکٹر وجے شنکر نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کی تفتیشی ایجنسیاں اس طرح کے منصوبے تیار کر رہی ہیں جس سے کوئی بھی مجرم قانون کے ہاتھوں سے بچ نہ سکے‘۔

گزشتہ برس اگست میں ہوم سکریٹریوں کی سطح پر بات چیت کے بعد سترہ برس بعد دونوں ملکوں کے تفتیشی اداروں نے اس طرح کی بات چیت کی ہے۔ بات چیت میں منظم جرائم، جسم فروشی اور منشیات جیسے مسائل شامل تھے۔

اس میں دونوں ایجنسیوں نےتفتیش میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور اس شعبے میں پیشہ وارانہ ٹرینگ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے اہلکاروں نے سارک ممالک کی سرحدوں پر ہونے والے جرائم پر قابو پانے کے لیے یورپ کی طرز پر ’سارک پول‘ پولیس بنانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

سی بی آئی کے ڈائریکٹر وجے شنکر نے پاکستان جانے کی دعوت بھی قبول کر لی ہے۔ وہ اس سال کے آخر میں ایک وفد کے ساتھ پاکستان جائيں گے۔

بات چیت میں انڈیا کی طرف سے انٹرپول سےحاصل ہونے والے ديگر معاملات بھی سامنے رکھے گئے۔ جس میں داؤد ابراہم کا نام بھی شامل ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے انڈیا پاکستان پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو واپس بھیجنے پر زور دے رہا ہے۔
جبکہ پاکستان داؤد کے پاکستان میں ہونے سے صاف انکار کرتا رہا ہے۔ انڈین انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق داؤد اس وقت پاکستان میں ہی ہیں۔ آج بھی داؤد کا معاملہ جب سامنے آیا تو دونوں جانب اہلکاروں کا صرف اتنا ہی کہنا تھا کہ بات چیت میں تمام مجرموں کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد