سرکریک پر پاک بھارت مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیان سرکریک کی سمندری کھاڑی کے تنازعے کے حل کے لیے تکنیکی سطح کی دو روزہ بات چیت دارالحکومت دلی میں جاری ہے۔ بات چیت میں متنازعہ مقام کے مشترکہ سروے سے جڑے تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔ متنازعہ سرحد کے مشترکہ سروے کی تجویز بھارتی وزير خارجہ کے نٹور سنگھ اور ان کے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری کے درمیان بات چیت کے بعد پیش کی گئي تھی۔ بھارتی وفد کی قیادت بریگئیڈئر جنرل گریش کمار کررہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت مجر جنرل جمیل الرحمن افریدی کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا یہ آٹھواں دور ہے۔ اس سے قبل مئی میں بات چیت کا دور بغیر کسی نتیجے پر ختم ہو گیا تھا۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ سروے کر چکے ہیں۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا تھا ۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے آٹھ دور ہوچکے ہیں ۔ | اسی بارے میں سرکریک: سرحدی برجیوں کا تعین06 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||