سرکریک: سرحدی برجیوں کا تعین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے حکام آٹھ سے گیارہ فروری تک واہگہ بارڈر پر گزشتہ ماہ سرکریک میں ہونے والے سروے کے نتائج کو مشترکہ طور پر کمپیوٹرائزڈ کریں گے۔ ایک سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس چار روزہ مشق کے پہلے دو روز یہ کام بھارتی سرحد کے اندر انجام دیا جائے گا جبکہ بقیہ دو روز یہ کام پاکستانی سرحد میں ہو گا۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ سروے کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ اس چار روزہ مشق کے بعد دونوں ممالک کی حکومتیں اس سروے کے نتائج پر بحث کریں گی جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے جس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے چھ دور ہوئے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ سر کریک کے تنازعے کی وجہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اور اسی لیے اس سے دستبردار ہونے کے لیے نہ بھارت تیار ہے اور نہ پاکستان۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اس علاقے میں مچھلیاں پکڑنے والے غریب مچھیروں کو بھی اکثر پکڑ لیتی ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان نے نو سوسے زائد بھارتی ماہی گیروں کو اس علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر گرفتار کیا جبکہ بھارت نے بھی پاکستان کے ایک سو سے زائد مچھیرے حراست میں لے لیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||