مذاکرات کے لیے وفد بھارت روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی دلی میں ہونے والے پاکستان اور بھارت کے درمیاں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد اسلام آباد سے روانہ ہوگیا ہے، اور آج شام لاہور سے دلی پہنچے گا۔ جمعہ کے روز پاکستان کے خارجہ سیکریٹری ریاض کھوکھر کی سربراہی میں وفد دلی کے لیے روانہ ہوا جس میں دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان بھی شامل ہیں۔وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سنیچر کے روز دلی پہنچیں گے۔ جامع مذاکرات کے آٹھ نکات جس میں امن اور سلامتی بشمول اعتماد کی بحالی کے اقدامات، جموں اور کشمیر، وولر بیراج اور تل بل نیویگیشن پروجیکٹ، ’دہشت گردی اور ڈرگ ٹریفکنگ،اقتصادی اور تجارتی شراکت، دوستانہ تبادلوں کے فروغ اور سیاچین اور سرکریک، کے متعلق دونوں ممالک کے حکام کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہوچکی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ میں پہلے پچیس اگست کو ملاقات ہونی تھی جو کہ باہمی رضامندی سے پانچ اور چھ ستمبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔ تمام متنازعہ امور پر اب تک ہونی والی بات چیت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی البتہ مذاکرات جاری رکھنے اور دونوں ممالک اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹے بغیر تجاویز کا تبادلہ کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی وفد کے دلی پہنچنے سے قبل ہی بھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ کہہ چکے ہیں کہ وزراء خارجہ کی ملاقات اور بات چیت سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادتیں اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا مشکل ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||