پائپ لائن پر بات چیت بامعنی رہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان نے ایران گيس پائپ لائن پروجیکٹ پر بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مذاکرت مثبت اور بڑے تعمیری رہے ہیں۔ فریقین نےاس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ گیس پائپ لائن کے بنیادی اصولوں کے طے ہوتے ہی ایک فریم ورک پر معاہدہ کیا جائیگا۔ فریقین کا کہنا ہے کہ مجوزہ پائپ لائن کے تقریبا سبھی پہلوؤں پر بات چيت ہوئی ہے اوراس میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستانی وفد کے سربراہ وقار احمد کا کہنا تھا کہ ’پائپ لائن کے قانونی پہلوؤں، تجارتی نکتہ نظر، تکنیکی و مالی مسائل اور اسکی سیکورٹی جیسے امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ بات چیت کا ماحول بہت اچھا تھا اور ہمیں امید ہے کہ اس سے ہمیں پروجیکٹ کو آگے لے جانے میں کا فی مدد ملے گی۔‘ انکا کہنا تھا کہ تمام امور پر فریقین نے کھل کر بات کی ہے اور ہم تقریبا ایک دوسرے کےسبھی معاملات کو سمجھتے ہیں۔ وقار احمد کے ہندوستانی ہم منصب ایس بی ترپاٹھی نے کہا کہ ’فریقین نے اتفاق کرلیا ہے کہ جب اس پروجیکٹ سے متلق بنیادی اصولوں کو تسلی بخش طریقے سے حل کرلیا جائیگا تو اسکے ایک ’فریم ورک‘ پر معاہدہ کیا جائیگا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ ہندوستان اس سلسلےمیں آئندہ مٹینگ سے قبل پاکستان کو ایک تفصیلی خاکہ پیش کریگا۔‘ مسٹر ترپاٹھی کے مطابق فریم ورک کی بنیاد پر ہی پائپ لائن پر کام ہوگا۔ فریقین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ پائپ لائن کے تکنیکی پہلو جیسے پائپ لائن کا سائز، اسکے دیگر نکات ،گیس کی کوالٹی اور اسکی مقدار پر دونوں ممالک کی سوچ و فکر میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دونوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں جانب کے ماہرین کی جلد ہی میٹنگ ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر وقار نے کہا کہ ابھی قیمتوں کے متعلق بات کرنا جلد بازی ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوہزار چھ تک تمام کاغذی کاروائی پوری ہوجائیگی۔ اور دوہزار دس تک پائپ لائن بچھ جائیگی۔ بات چیت کی قیادت دونوں ملکوں کے پیٹرولیم سیکریٹریز کررہے تھے۔گیس پائپ لائن پرانڈو پاک جوائنٹ ورکنگ گروپ کی یہ پہلی میٹنگ تھی۔ فریقین اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ اس گروپ کی آئندہ میٹنگ اگست کے اواخر میں اسلام آباد میں ہوگی۔ مجوزہ گیس پائپ لائن پاکستان سے ہوتے ہوئے ایران سے ہندوستان آئيگی۔ اس سے ہرروز تقریبا ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکی آمد سے بھارت اور پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملےگی اور گیس کی قیمتیں بھی سستی ہونگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||