BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت: شپنگ کا نیا معاہدہ

پاکستان اور بھارت میں معاہدہ
جہاز رانی کا پرانا معاہدہ نئے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے
پاکستان اور بھارت شپنگ کے لیے مستقبل اور حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ پروٹوکول میں ترمیم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

گزشتہ تین روز سے کراچی میں جاری مذاکرات کے بعد مرتب کی گئی تجاویز دونوں ممالک کی حکومتوں کو پیش کی جائیں گی جس کے بعدبا ضابطہ پروٹوکول پر دستخط کیے جائینگے۔

پاکستانی وفد میں شامل ڈائریکٹر شپنگ انور شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک میں شملہ معاہدے کے بعد انیس سو پچہتر میں شپنگ پروٹوکول بنایا گیا تھا۔ جس میں صرف رسومات پوری کی گئیں تھیں۔ جو آج تیس سال کے بعد کارگر نہیں رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے اور انڈیا کے جہاز تیسرے ملک سے پاکستان اور انڈیا کا کارگو نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اس شق کو ہم نے درست کیا ہے۔ اب تیسرے ملک سے دونوں ملک ایک دوسرے کے کارگو اٹھا سکیں گے۔

انور شاہ نے بتایا کہ پاکستان اپنی بندرگاہ پر بحری جہازوں میں کام کرنے والے بھارتی ملازمین کو غیر ملکی جہازوں میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر بھارت پاکستان کے ملازمین کو ایسی اجازت نہیں دیتا ہے۔

ہمارے لیے گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد مشکلات بڑھ گئی تھیں۔ بھارت نے ہمارے اس مطالبے کو مان لیا ہے۔ اب ہمارے بحری جہازوں کے ملازمین بھی وہاں غیر ملکی جہازوں پر کام کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مذاکرات میں مشکلات ضرور ہوتی ہیں مگر ہم نے ایک اچھے ماحول میں ان رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔ دو سال کی محنت اور کاوشیں کامیابی کی طرف لے جا رہی ہیں۔

بھارتی وفد کے سربراہ وزارت شپنگ کے جوائنٹ سیکریٹری سشیل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انیس سو پچہتر کا پروٹوکول محدود تھا۔ جس میں ترمیم کے مرحلے کو ہم نے کامیابی سے طے کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ پروٹوکول کو جدید خطوط پر استوار کریں اور دونوں ملکوں میں جہاز رانی کا مکمل معاہدہ کریں ۔

سشیل کمار کے مطابق یہ تجاویز دونوں حکومتوں کی کابیناؤں میں پیش ہوں گی۔ انہوں نہ کہا کہ وہ اپنی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان تجاویز کو منظوری مل جائیگی۔

66پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
66قربتیں اور فاصلے
بھارتی سکھ اب بھی لاہور کو یاد کرتے ہیں
اسی بارے میں
لندن سڈنی فرینڈشپ کار ریلی
04 September, 2005 | پاکستان
ویزہ نہ جاری کرنے کی مذمت
09 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد