BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 July, 2005, 02:57 GMT 07:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویزہ نہ جاری کرنے کی مذمت

News image
اس سے پہلے ہندوستان سے کئی سفیرانِ امن کے کئی وفد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں
انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے بھارتی امن پسند خواتین کو ویزا دینے سے کوئی وجہ بتائے بغیر انکار کرنے کی مذمت کی ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس فیصلہ سے انسانیت کے لیے عورتوں کا بین الاقوامی چارٹر اور اس کے ہمراہ دنیا کا چکر لگانے والی رِلی یعنی quilt کا سفر رک جائے گا۔

نیٹ ورک برائے حقوقِ نسواں کی کوآرڈینیٹر صالحہ اطہر نے بتایا کہ عالمی سطح پر خواتین کے حقوق سے متعلق یکجہتی کی ریلے ریس کو پاکستان میں منعقد کرنے اور خواتین کے عالمی چارٹر کو اگلے مرحلہ میں آذربائیجان تک پہنچانے میں حکومتِ پاکستان نے بھارت سے آنے والی خواتین کے وفد کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے جو کہ اس ریلے ریس میں رکاوٹ ڈانے کے مترادف ہے۔

انسانیت کے لیے عورتوں کا بین الاقوامی چارٹر روانڈا میں 10دسمبر 2004 کو تیار کرتے وقت طے کیا گیا تھا کہ یہ چارٹر دنیا کے ہر اس ملک سے گزرے گا جہاں عورتوں کے خلاف تشدد اور غربت کے خلاف جدوجہد میں اپنی کوششوں کو یکجاکرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایاہو اس چارٹر کی بنیاد برابری آزادی یکجہتی انصاف اور امن پر ہے۔

اس چارٹر کے ساتھ ساتھ ایک رِلی بھی سی جارہی ہےجو ہر ملک اپنے مسائل اور حقوق کو سامنے رکھ کر تیار کرے گا یہ ایک ریلے ریس کی صورت میں ایک ملک کی خواتین دوسرے ملک تک پہنچائیں گی اور وہاں پر اس چارٹر اور رِلی کےلیے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

جمعہ کو کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صالحہ اطہر نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے بھارتی خواتین کو بغیر کوئی وجہ بتائے ویزہ دینے سے انکار کیا ہے جبکہ انہوں نے محکمہ داخلہ کے طریقہ کار کے مطابق اٹھارہ اپریل کو دفترِ داخلہ مین ان تمام ارکان کی فہرست بمعہ تصاویر اور پتے جمع کرادی تھی۔

ان کے مطابق ویزہ کے انکار سے دنیا میں چارٹر کی ریلے ریس رک جائے گی اور دنیا بھر میں پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا جو ایک طرف تو امن و دوستی کا پرچار کررہا ہے اور پڑوسی ملک سے دوستی بڑھانے کے دعوے کررہا ہے مگر دوسری جانب امن و دوستی میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں جو دنیا میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔

مارچ آف ویمن کے پروگرام کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے گزرتے ہوئے اس چارٹر اور رِلی کے ہمراہ برما کی خواتین سترہ جولائی کو بھارت پہنچنا ہے جہاں چھ دن گزار کر بھارتی خواتین کو یہ چارٹر اور رِلی چوبیس جولائی کو پاکستان پہنچانا ہے جہاں واہگہ سرحد پر پاکستانی خواتین چارٹر اور رِلی وصول کرکے خوش آمدید کا پروگرام منعقد کریں گی۔

پچیس جولائی کولاہور میں وہاں کی سول سوسائٹی کی خواتین اور مرد اس چارٹر کی آمد پر سیمینار کلچرل پروگرام اور تھیٹر پیش کریں گے اور اسی شام بھارتی خواتین کو کراچی کے لیے روانہ ہونا ہے جہاں اگلے دو دن مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے جس کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق اٹھائیس جولائی کو پاکستانی خواتین کو آذر بائیجان جاکر چارٹر اور رِلی وہاں کی خواتین کے سپرد کرنا ہے۔

نیٹ ورک برائے حقوقِ نسواں کے مطابق وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ کو بذریعہ فیکس ایک یادداشت چھ جولائی کو بھیجی گئی ہے مگر ابھی تک اس کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ نیٹ ورک نے دنیا بھر کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ صدر مشرف کو خطوط تحریر کر کے پاکستان میں خواتین کے عالمی ریلے چارٹر کے انعقاد کا مطالبہ کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد