رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قید وہ اکہتر بھارتی ماہی گیر منگل کی سہہ پہر واہگہ کے راستے بھارت پہنچ گئے جنہیں حکومت پاکستان نے پیر کو کراچی کی دوجیلوں سے رہا کیا تھا۔ ان میں سے چھبیس کراچی کی لانڈھی جیل اور پینتیس جوینائل جیل سے رہا کیے گئے اور وہ بسوں کے ذریعے براہ راست واہگہ باڈر پہنچے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ باڈر عام طور پر ساڑھے تین بجے آمد ورفت کے لیے بند کر دی جاتی ہے لیکن ان ماہی گیروں کی سہولت کے لیئے پاکستانی رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس نے متفقہ طور پر یہ وقت بڑھا دیا تھا اور ان کی واپسی کا عمل شام چھ بجے تک جاری رہا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے ضمن میں ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ہی دن پہلے بھارت نے بھی پاکستان کے انسٹھ مچھیروں کو رہا کیا تھا جو واہگہ کے ہی راستے پاکستان پہنچے تھے۔ رہائی پانے والے تمام ماہی گیرگزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان اور بھارت کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔ دونوں ملکوں کے اہلکار ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف روزی کے الزام میں گرفتار کرتے رہتے ہیں اور انہیں کئی کئی مہینے جیلوں میں رکھنے کے بعد رہا کیا جاتا ہے اور پھر اس اقدام کو خیر سگالی کے جذبات کا اظہار قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی دونوں ملکوں کی جیلوں میں ایک دوسرے کے ماہی گیر قید ہیں۔ پاکستان میں کراچی کی لانڈھی اور جوینائل جیلوں میں اس وقت بھی چار سو چونتیس بھارتی ماہی گیر آزادی کے منتظر ہیں۔ | اسی بارے میں ماہی گیروں کے قتل پراحتجاج20 May, 2004 | پاکستان پاکستانی ماہی گیروں کی گرفتاری 04 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||