ماہی گیروں کے قتل پراحتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جمعرات کو بھارتی ہائی کمیشن کے سینیئر سفارتکار کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے تین ماہی گیروں کے قتل پر سخت احتجاج کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی سفارتکار سے کہا گیا ہے کہ ان کی بحریہ کے ہاتھوں تین پاکستانی ماہی گیروں کے ’ بے حس اور بلاجواز قتل‘ پر احتجاج سے وہ ان کے ملک کو آگاہ کریں۔ ترجمان کے مطابق بھارتی نمائندے کو بتایا گیا کہ ماہی گیروں کا سمندری حدود میں بھٹک آنا معمول کی بات ہے اور اس پر زیادہ سے زیادہ انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھارتی نمائندے کو یاد دلایا کہ ان کے ماہی گیر بھی پاکستان کی حدود میں آتے ہیں اور انہیں کبھی جانی اور مالی نقصان نہیں پہنچا۔ ترجمان نے بھارتی سینیئر سفارتکار سے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اور یقینی بنائیں کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں ۔ واضح رہے کہ پاکستان نے یہ احتجاج اس موقع پر کیا ہے جس وقت بھارت میں نئی حکومت کا قیام آخری مراحل میں ہے اور دونوں جانب سے مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات حل کرنے کی خواہشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||