’ایران کاحل یواین کےتحت نکالا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی تنازعے کا حل اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت نکالا جائے۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان نے جوہری پھیلاؤ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نیٹ ورک مکمل طور پر توڑ دیا ہے اور ایسے موثر اقدامات کیے ہیں کہ اب ملک سے جوہری مواد یا ٹیکنالوجی کا پھیلانا ممکن نہیں۔ یہ بات انہوں نےاپنے جاپانی ہم منصب سے تفصیلی بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے ایک سو افراد جوہری پھیلاؤ کے زیر زمین نیٹ ورک میں کام کر رہے تھے لیکن جتنے اقدامات پاکستان نے اپنے شہریوں کے خلاف اٹھائے اتنی سخت کارروائی کسی اور ملک نے اپنے شہریوں کے خلاف نہیں کی۔ تاہم اس موقع پر خورشید محمود قصوری نے جوہری پھیلاؤ کے بارے میں کہا کہ ’جو کچھ ماضی میں ہوا اس پر پاکستان کو بہت افسوس ہے لیکن بعد میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی بھی کی‘۔ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے ملاقات میں دوطرفہ امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، جوہری بجلی پیدا کرنے، پاک بھارت مذاکرات کی پیش رفت اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے’سکیورٹی ڈائیلاگ‘ جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ اور دنیا کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک کرنے مہمان وزیر تارو ایسو نے کہاکہ ایک ورکنگ گروپ دہشت گردی سے نمٹنے اور دوسرا جوہری عدم پھیلاؤ، جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن مقاصد کے لیے استعمال کے موضوعات پر بات چیت کرے گا۔ انہوں نے پاک بھارت مذاکرات کے متعلق سوال پر کہا کہ ’ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ایسے معاملات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جائیں‘۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جوہری طور پر غیر مسلح ہونے اور عدم پھیلاؤ کے معاملے میں جاپان کی پالیسی بھارت اور پاکستان کے لیے یکساں ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے جوہری پھیلاؤ کے زیر زمین نیٹ ورک میں شامل افراد کے بارے میں وقت بوقت معلومات فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ خورشید محمود قصوری نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان شمالی کوریا سے ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی کا مخالف ہے لیکن ان کے مطابق ایران کے جوہری معاملات کا حل ’انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی‘ کے فریم ورک کے تحت نکالا جائے۔ واضح رہے کہ جاپان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے امریکہ کے گرائے ہوئِے جوہری بموں کی تباہی بھگتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت جاپان دنیا میں جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات میں پیش پیش ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ نے زلزلہ زدگاں کے لیے ساڑھے پانچ کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا بھی اعلان کیا جس سے جاپان کی اس ضمن میں تاحال کل امداد بیس کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس موقع پر دو معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔ ایک معاہدے کے تحت جاپان پاکستان کو زلزلہ زدگاں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ایک اعشاریہ تین فیصد کی شرح سود پر دس کروڑ ڈالر کا قرضہ دے گا۔ یہ قرضہ پاکستان کو تیس برسوں میں واپس کرنا ہوگا اور بعد میں دس برس کی اضافی مدت بھی باہمی رضامندی سے بڑھائی جاسکتی ہے۔ دوسرے معاہدے کے تحت جاپان دو لاکھ تیس ہزار ڈالر فراہم کرے گا جس سے پاکستان تعمیراتی مشینری کی تربیت کے لیے ادارہ قائم کرے گا۔ اس ادارے کا مقصد ہنرمند مزدور پیدا کرنا ہے۔ | اسی بارے میں قدیر کے مسئلے پر واک آؤٹ11 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر قدیر کو دل کی تکلیف16 June, 2005 | پاکستان ڈاکٹرقدیر خان کی حالت بہتر17 June, 2005 | پاکستان ’قدیرکو سی آئی اے نے بچایا تھا‘09 August, 2005 | پاکستان حملہ: ڈاکٹر قدیر کا دامادگرفتار12 August, 2005 | پاکستان ’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘24 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||