BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرزئی کا فضل الرحمان کو خط

افغانستان کے صدر حامد کرزئی
حامد کرزئی نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کی
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان سے افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔

حامد کرزئی نے انہیں ایک خط لکھنے کے بعد ٹیلی فون پر ان سے براہ راست گفتگو بھی کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور پاکستان میں دینی جماعتوں کے ایک اتحاد مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

ان کا صوبہ سرحد اور بلوچستان کے پشتونوں میں خاصا اثررسوخ ہے جن کی زیادہ تر تعداد افغانستان کی سرحد کے قریب رہتی ہے۔

افغانستان کی حکومت کئی بار یہ الزام عائد کر چکی ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے راستے طالبان کی امداد کی جا رہی ہے۔

جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی کو بتایاکہ صدر کرزئی کومولانا فضل الرحمان نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ ان کا خط اپنی جماعت اور مجلس عمل کی قیادت کے سامنے رکھیں گے اور مشاورت کے بعد طے کیے جانے والے لائحہ عمل سے انہیں آگاہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان
مولانا نے افغان صدر کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا

صدر کرزئی کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے مکمل مندرجات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں تاہم مولانا امجد خان کا کہنا ہے کہ اس خط میں حامد کرزئی نے افغانستان میں امن کے لیے مولانا فضل الرحمان کو کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ق) کے قائد چودھری شجاعت حسین نے بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا ہے۔ جے یوآئی کے ایک سینئیر رہنما نے بتایاکہ دونوں رہنماؤں میں جلد اسلام آباد میں ایک خصوصی ملاقات متوقع ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا افغانستان کے سابق دور میں طالبان حکومت میں بھی بہت اثرو رسوخ تھا اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں افغانستان میں ہونے والے اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔

طالبان ان پشتون نوجوانوں کو کہا جاتا ہے جو افغانستان کی مسلسل جنگوں کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان یا دیگر علاقوں میں پناہ گزین تھے اور مختلف مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔

طالبان کے مفرور قائد ملا عمر بھی پاکستان کے ایک مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔

جے یوآئی کے زیر انتظام چلنے والے مدرسوں میں اب بھی طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد