BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 05:20 GMT 10:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا کے سامنے پول کھل گیا‘

مولانا فضل الرحمنٰ
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ایم ایم کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمنٰ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جارج بش کے دورہ جنوبی ایشیا سے پاکستان اور جنرل مشرف کا عالمی طاقتوں کے سامنے ’حیثیت‘ کا پول کھل گیا ہے۔

سنیچر کے روز ملتان پریس کلب کے پروگرام ’گفتگو‘ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بش نے اس دورہ میں بھارت پر اقتصادی، دفاعی اور جوہری ’نوازشات‘ کی ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ ان کا رویہ ایسا ہے جیسے ’ہمیں غلامی کرنے پر بس شاباش دے رہے ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر بش نے جنرل مشرف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں نہ تو پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی کشمیر کے مسئلے پر کوئی نئی بات سامنے لائے ہیں۔ مجلس عمل کے رہنما کا کہنا تھا کہ دوسری طرف بھارت کے ساتھ جوہری معاہدہ کرتے ہوئے این پی ٹی یعنی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے جس سے خطے کے دوسرے ممالک تشویش کا شکار ہیں۔

مولانا فضل الرحمنٰ کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکی ’اطاعت‘ قبول کرتے ہوئے جنرل مشرف کا مؤقف تھا کہ اس سے خطے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت بڑھے گی۔’لیکن صدر بش کے دورہ جنوبی ایشیا نے ثابت کر دیا ہے کہ داخلی طور پر بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود جنرل مشرف کا یہ تصور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں کسی قسم کی ’جغرافیائی تبدیلیوں‘ کو کنٹرول کرسکے اور اسی تناظر میں افغان صدر حامد کرزئی اپنے ملک میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی زبان بول رہے ہیں۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری کشیدگی کو مذاکرات اور پارلیمان کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ناکہ بندوق کی نوک پر۔’بلوچستان میں لڑائی بڑھتی بڑھتی ایران کی سرحد تک جا پہنچے گی۔ جس کا فائدہ نہ پاکستان کو ہوگا نہ ایران کو۔ البتہ امریکہ کو پاک ایران سرحد پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ضرور ملے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف مسلسل ’آ بیل مجھے مار‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ مولانا فضل الرحمنٰ کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات دے کر کہ ’مشرقی سرحد مذاکرات اور مغربی طاقت سے محفوظ کریں گے‘ جنرل مشرف امریکی عزائم کو تقویت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی جو بات کررہے ہیں اسے امریکہ سمیت کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔

جنرل مشرف کے اس بیان پر کہ ’پاکستان میں حقیقی جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فصل الرحمنٰ نے ہنستے ہوئے کہا ’یہ قیامت نہیں تو کیا ہے‘ یعنی وردی سمیت صدر ہیں، پارلیمان کے حقوق دبا رکھے ہیں اور ایک وفاقی پارلیمانی نظام میں منتخب وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے امریکی صدر سے خود مذاکرات کر رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی تصیح کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم جیسا تیسا ہے لیکن بہر حال پارلیمانی نظام حکومت میں چیف ایگزیکٹو وہی ہوتا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پوری دنیا میں ’فرینڈلی‘ ہی ہوتی ہے اور اس حوالے سے ایم ایم اے کو ویسے ہی بدنام کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں داخلی امور کی نسبت خارجی معاملات زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور مجلس عمل کو ان تغیرات کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دینی پڑتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد