BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 September, 2006, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان دہشتگردی کا منبع نہیں

وزیرستان
روایات کے مطابق وزیرستان کے مسئلے کو حل کرنا اچھا اقدام ہے
برطانیہ کے نائب وزیرخارجہ ڈاکٹر کیم ہوولز نے کہا ہے کہ جنوبی افغانستان میں جاری دہشت گردی کا منبع پاکستان نہیں بلکہ وہاں کے مقامی ہیروئن کے تاجر، وار لارڈز اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو افغانستان میں حالات خراب کرنے میں ملوث ہیں۔

وہ جمعہ کے روز پشاور پریس کلب کے ایک پروگرام میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان میں متعین برطانوی ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ اور دیگر سفارت کار بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر کیم ہوولز نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں افغانستان کو بھی اس معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لیکر اس سے استفادہ کرنا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرگے اور مقامی روایات کے مطابق وزیرستان کے مسئلے کو حل کرنا اچھا اقدام ہے اور مقامی لوگوں اور غیر ملکیوں کو اب اسکا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف مقامی قبائل کے لیئے ایک خوش آئند اقدام قراردیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے پاکستان اور افغانستان کے مابین موجود تعلقات کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں پاک افغان سرحد پر لگی ہوئی ہیں جہاں اب بھی اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کی آمدورفت بھی ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی یہ تعاون جاری رکھے گا۔
برطانوی نائب وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ برطانیہ نے افغانستان میں اپنی فورسز طالبان کے خلاف جنگ کرنے کےلیئے نہیں بھیجی بلکہ یہ تو اقوام متحدہ کے اس مشن کا حصہ ہے جس میں 36 دیگر ممالک کے فوجی دستے افغانستان میں قیام امن اور صدر حامد کرزئی کی حکومت کو استحکام دینے کے لیئے تعینات کیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ہوولز نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ جنوبی افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں پاکستان کا کوئی ہاتھ ہوسکتا ہے اور واضح کیا کہ افغانستان کے اندر بعض ایسی قوتیں موجود ہیں جو کرزئی حکومت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں برطانوی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام تر دہشت گرد نہ تو افغانی ہیں ارر نہ ہی پاکستانی بلکہ چیچن اور ازبک سمیت ایسے دیگر لوگ جو جمہوری حکومتیں نہیں چاہتے دنیا بھر میں دہشت گردی کا سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نہ کہا کہ برطانیہ کو دہشت گردی سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں قیام امن کے لیئے دیگر جمہوریت پسند اقوام کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اسی بارے میں
الزام لگانا بند کر دیں: مشرف
07 September, 2006 | پاکستان
طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد