BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیل کی کڑوی گولی نگلنا ہوگی

بے نظیر اس سال کے آخر تک وطن واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کا ذکر ہو لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کا نام نہ لیا جائے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی لیکن گزشتہ ہفتہ لندن سکول آف اکنامکس میں بے نظیر بھٹو نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے طویل لیکچر میں ایک مرتبہ بھی جنرل پرویز مشرف کا نام لیے بغیر اس موضوع پر تفصیل سے بات کی۔

اسی لیکچر میں بے نظیر بھٹو نے پہلی مرتبہ یہ بات تسلیم کی کہ طالبان کو بنانا اور ان کی حمایت کرنا ان کی ایک غلطی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت طالبان کی خالق ہے۔ گو ان کی حکومت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر طالبان کو ’ آر بوائز‘ یا ہمارے لڑکے کہتے رہے ہیں۔

طالبان کوتخلیق کرنےکو غلطی تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ طالبان افغانستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق یہ ڈیل اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی براہ راست مداخلت کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔ ڈیل کے دوران فریقین کے درمیان ہونے والے رابطوں میں کم از کم تین مرتبہ بے نظیراور صدر مشرف کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔

لیچکر میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان کسی حد تک معاملات طے پا گئے ہیں۔ اس لیکچر کے چند دنوں بعد ہی برطانوی اور امریکی اخبارات میں شائع ہونے والے بے نظیر بھٹو کےانٹرویوز سے اس کی مزید تصدیق ہو گئی کہ سن دو ہزاردو سے جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان گاہے بگاہے ہونےوالے رابط بلآخر نتیجہ خیر ثابت ہو گئے ہیں۔

اس ڈیل کی تفصیلات کو سامنے آنے میں غالباً اب زیادہ وقت نہیں لگے گا اور اس سال کے آخر میں عام انتخابات تک ہرگزرتے دن کے ساتھ ایک اور فوجی جنرل اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی’ڈیل‘ کے خدوخال واضح ہوتے چلے جائیں گے۔

لندن سکول آف اکنامکس میں ایک سوال کہ کیا جنرل مشرف سے ’ڈیل‘ کرنے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک جمہوریت پسند قوت کے طورپر ساکھ متاثر نہیں ہوگی، بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اب مسئلہ ساکھ کا نہیں مسئلہ ملک کو بڑھتے ہوئے ’طالبانائزیشن‘ سے بچانے کا ہے۔

بے نظیر بھٹو نے اس لیچکر میں یورپ اور امریکہ میں ہونے والے تقریباً تمام بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان سے جوڑا حتیٰ کہ انہوں نے صدرمشرف کا نام لیے بغیر ان بیانات کا بھی حوالہ دیا کہ اسامہ بن لادن شاید افغانستان کے ساتھ پاکستان کے پہاڑی علاقے میں روپوش ہیں۔

ڈیل کے بعد میثاق جہموریت بھی وقعت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہ جائے گی

لگتا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے ایک طرف تو بے نظیر دہشت گردی میں پاکستان کی ’فرنٹ لائن سٹیٹ‘ یا صف اول کی ریاست کے طور پر حیثیت کو دوبارہ اجاگر کرنا چاہتی ہیں تو دوسری طرف انہوں نے ’ویسٹ کی ڈرالنگ‘ کی اپنی کھو ہوئی حیثیت دوبارہ بحال کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے جس کی عکاسی حالیہ دنوں میں مغرب کے مقتدر ترین اخبارت میں چھپنے والے ان کے انٹرویوز ہیں۔ ایک مرتبہ پھر مغربی ذرائع ابلاغ کے لیے بے نظیر بھٹو کے انٹرویوز کی خبریت بڑھ گئی ہے۔

گو پاکستان میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت مخدوم امین فہیم سے لے کر ورکز کی سطح تک کوئی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ بے نظیر بھٹو اور جنرل کی ڈیل ہو گئی ہے۔ جس شدت سے ان خبروں کی تردید کی جا رہی ہے اسی تواتر سے بے نظیر بھٹو کی طرف سے ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جن سے خبریں افواہوں سے یقین میں بدلتی چلی جا رہی ہیں۔

 پاکستان میں پارٹی کے نظریاتی کارکنان اس ڈیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی حمایت میں سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے مظاہروں میں کارکن اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ میں کسی فوجی حکمران یا اسٹیبلشمنٹ سے پہلی ڈیل نہیں ہوگی۔ انیس سو اٹھاسی میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ایک ڈیل کے نتیجے ہی میں قائم ہوئی تھی اور مرحوم نواب زادہ نصر اللہ کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو پیپلز پارٹی نے صدر منتخب کیا تھا۔

گو اس وقت بے نظیر بھٹو کی حیثیت آج سےبالکل مختلف تھی لیکن ایک بہت بڑا فرق یہ ہے وہ الیکشن کے بعد ہوئی تھی اور یہ انتخابات سے قبل ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق یہ ڈیل اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی براہ راست مداخلت کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔ ڈیل کے دوران فریقین کے درمیان ہونے والے رابطوں میں کم از کم تین مرتبہ بے نظیراور صدر مشرف کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔

ڈیل کے حامی ذرائع اس موقف کے حامل ہیں کہ آخرکار اقتدار کی منتقلی کے لیے کوئی نہ کوئی تو راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں پارٹی کے نظریاتی کارکنان اس ڈیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے ہیں اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی حمایت میں سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے مظاہروں میں کارکن اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

ڈیل کی یہ کڑوی گولی کارکنوں کو نگلنی ہی پڑے گی لیکن یہ جواب آنے والے ماہ و سال ہی دیں گے کہ اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ سے پیپلز پارٹی کی ڈیل کتنے دن چل سکے گی۔

بے نظیر بھٹومفاہمت چاہتے ہیں
بے نظیرکہتی ہیں مفاہمت اچھا شگون ہو گا
نواز شریف، بینظیربی بی نواز ملاقاتیں
اصولی پیمانوں سے ماپنے کا وقت نہیں آیا
بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد