’گرفتاری کے امکان کے باوجود واپسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ گرفتاری کے امکان کے باوجود اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے ستمبر اور دسمبر کے درمیان ملک واپس جائیں گی۔ بی بی سی اردو سے ایک خصوصی انٹرویو میں بے نظیر بھٹو نے کہا’اگر (مجھے) گرفتار بھی کریں پھر بھی واپس جاؤں گی۔ اور میں گرفتاری کے لیے تیار ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ ستمبر سے پہلے بہت جلد ہی واپس چلی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ جلد ہی کسی تاریخ کا اعلان کریں گی اور وہ لندن سے پاکستان جائیں گی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ وہ جنرل مشرف کے حالیہ بیان سے بہت مایوس ہوئیں جس میں انہوں نے ملک کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں کی واپسی کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا’میں ان کے اِس بیان سے بہت مایوس ہوئی کیونکہ میرے خیال میں ملک میں جس طرح ٹانک سے لے کر اسلام آباد تک انتہا پسند متوازی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں جنرل مشرف کو میرا اور میاں نواز شریف کا خیر مقدم کرنا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی تبدیلی اور آئندہ آنے والے الیکشن میں ملک کے بڑے سیاسی رہنماؤں کی شمولیت ضروی ہے اور اسی لیے انہوں نے ملک واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ گرفتار کیے جانے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے خلاف صرف عدالت سے غیر حاضری کی سزا ہے۔ تاہم بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر فوجی حکومت چاہے تو وہ کچھ بھی الزام ان پر لگا سکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ ان کے رابطے ضرور ہوئے ہیں لیکن کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا ’رابطے ضرور ہیں لیکن سمجھوتہ اور بات ہے۔ آج تک ان سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے جس کے تحت ہم یہ کہیں کہ ہم انہیں قبول کریں گے‘۔ بےنظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ فوج واپس بیرکس میں جائے اور انہیں یونیفارم قبول نہیں۔ جنرل مشرف کو بطور صدر قبول کرنے اور ان کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ انتخاب کے بارے میں مسز بھٹو کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاملہ ہے اس لیے اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی اور موجودہ عدالتی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا ’عدالت کس طرح یہ فیصلہ کرے گی اور چیف جسٹس کے واقعہ کے بعد میں نہیں سمجھتی کہ ان کو (عدالتوں کو) ’فارگرانٹڈ‘ لینا چاہیے‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ انہوں نے پچھلے چند ماہ سے خاص طور پر ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی روک تھام پر بہت زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ایک فوجی حکومت کے مقابلے میں ایک نمائندہ حکومت یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتی ہے۔ اپنے شوہر اور سابق سینیٹر آصف علی زرداری کی سیاسی منظر نامے میں غیر موجودگی پر بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ نیویارک میں زیر علاج ہیں اور جہاز سے سفر نہیں کرسکتے اور وہیں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ کہ وہ آئندہ ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہوں گے یا نہیں ان کی صحت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’مشرف ایم کیوایم روابط پر شک تھا‘17 May, 2007 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے22 May, 2007 | پاکستان ڈیل کی کڑوی گولی نگلنا ہوگی30 April, 2007 | پاکستان ’بینظیر کی ترجیج جمہوریت نہیں‘28 April, 2007 | پاکستان جمہوری قوتوں کو موقع دیں: بینظیر25 April, 2007 | پاکستان مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق 09 April, 2007 | پاکستان سیاستدانوں سے مفاہمت کا پہلا قدم؟06 April, 2007 | پاکستان بھٹو کی برسی اور اقتدار کی امید04 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||