صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور نے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف کا انٹرویو کیا ہے، ذیل میں اس انٹرویو کے اہم حصے صدر مشرف کی طرف سے دیئے گئے جوابات کی شکل میں تحریر کیے جا رہے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر انہیں فوجی وردی اور صدارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کس عہدے کو ترجیح دیں گے؟ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آخرکار فوج کو چھوڑنا پڑے گا۔ ’لیکن (یہ فیصلہ) کب کرنا ہے اس کا ( کے بارے میں) ذرا سوچنا پڑے گا۔ میں نے ہمیشہ کہا کہ میں آئین کی کبھی خلاف ورزی نہیں کروں گا‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ ان کے لیے فوجی وردی کو چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ’فوجی وردی تو میری کھال کا حصہ بن چکی ہے۔ چالیس پینتالیس سال سے پہن رہا ہوں۔ یہ تو میری زندگی کا حصہ ہے۔ اس نے تو مجھے بنایا ہے جو کچھ میں ہوں۔ فوج تو میری لائف اینڈ بلڈ ہے۔ صدر تو میں حالات کی وجہ سے بنا ہوں‘۔ جامعہ حفصہ سے متعلق حکومتی بے عملی کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں صدر مشرف نے کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لوگوں کو ایک حکم سے ختم کرایا جا سکتا ہے۔ لیکن (ایسا کیا تو) کل آپ کہیں گے کہ انہوں نے عورتوں کو مروا دیا۔ انہوں نے مسجد کو تباہ کر دیا۔ اپوزیشن یہی چاہ رہی ہے کہ میں ایسا کروں۔ وہ ٹی وی پر دکھائیں گے۔ تین عورتیں ادھر ختم ہوئی ہوئی ہیں خون میں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایکشن کے سلسلے میں تحمل سے کام لے گی کیونکہ اس میں بہت خون ریزی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفص کے لوگوں کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ خود کش حملوں کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے الفاظ میں ’ایک بحران پہلے ہو چکا ہے اور اگر ایکشن کیا گیا تو ایک بحران اور آ جائے گا۔ یہ ایک دانشمندانہ ایکشن نہیں ہوگا۔ اس کو ختم ضرور کرنا ہے لیکن ٹائمنگ ذرا سوچنا پڑے گی‘۔ ان کے بقول صدر کا کام متوازن طریقے سے ملک کو چلانا ہے اور کوئی بھی ہو چاہے وہ وزیراعظم ہو، وفاقی وزراء ہوں یا کہ صدر اُن کو مملکت کے کام متوازن طریقے سے چلانے ہوتے ہیں۔ اور اب چیف جسٹس کے خلاف معاملہ یہ ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفررنس اُن کے کردار، اور وہ جو کرتے رہے ہیں اُس بارے میں آبزرویشن میرے سامنے آئیں اور وہ ریفررنس وزیراعظم کی جانب سے میرے سامنے آیا۔ اس میں فوج کہیں نہیں ہے اس سے آرمی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر کا کہنا تھا ’جب اُن کے بارے میں سنگیں الزامات میرے سامنے آئے تو میں کیا کرتا، وہ تو کئی میرے مرتبہ میرے پاس آئے اپنی بیگم کے ساتھ بھی آئے اور میں اُن کو وردی میں ہی ملتا رہا ہوں میں اُس وقت چیف جسٹس کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیکھتا یا کہ وہ کرتا جس کی مملکت کو ضرورت تھی۔ میں نےقانونی لوگوں سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا اور ایک قانونی ادارے کو یہ ریفررنس بھیج دیا جائے۔ تو اس میں فوج کا تو کوئی دخل نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایشو کو ہوا اپوزیشن اور وکلاء نے دی۔ وکلاء کی بھی کئی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ہے یہاں سپریم کورٹ کے سامنے اپوزیشن کے رہنما آئے ہوتے ہیں اور اس معاملے کو سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کو کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہے، اگر دو ہزار لوگ باہر آ جائیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ ہم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ ’میں اُن میں سے نہیں جو سپریم کورٹ پر چھلانگیں ماریں، مجھے تو نواز شریف پر ہنسی آتی ہے کہ سپریم کورٹ کی بالا دستی کی باتیں کر رہے ہیں اُن کو یاد نہیں کہ اُنہوں نے کیا کیا تھا۔ ہم اُن میں سے نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہو گا‘۔ مجھے نہیں معلوم کہ کراچی میں گولیاں کس نے چلائیں۔ مجھے بھی کراچی کے معاملے میں ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حقیت یہ ہے کہ جب اپوزیشن نے اس معاملے کو سیاسی بنایا تو حکومتی جماعتوں کی جانب سے اس کا ردعمل سامنے آیا۔ حکومت تو یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح کا تصادم کراچی میں نہ ہو اور حکومت نے تو ہوم سیکرٹری کو ائیر پورٹ پر بٹھائے رکھا کہ وہ اُن سے درخواست کریں کہ وہ ہیلی کاپٹر پر سندھ ہائی کورٹ چلے جائیں۔ لیکن اُنہوں نے انکار کردیا اور اس کے علاوہ اپنا روٹ بھی نہیں بتایا وہ تو پورے شہر میں جانا چاہتے تھے۔ لیکن کراچی میں حالات کیسے خراب ہوئے اس میں ہم انکوائری کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں جسلہ کیوں کیا اور ایک طرف یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہاں کیوں گئے۔ ایم کیو ایم کی وہاں سپورٹ ہے ، ہم ایم کیو ایم کو کیا بین کر دیں؟ مجھے ایک بات پر یقین ہے کہ گولیاں چلانے اور مارنے کے کوئی سرکاری احکامات جاری نہیں ہوئے، یہ تو پاگل ہو گا جو ایسا کرے گا۔ میں اُس وقت اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا جب تک مجھے پوری طرح یہ معلوم نہ ہوجائے کہ کس نہ یہ سب کچھ شروع کیا۔ لیکن اُس کے بعد اس مسلئے کو لسانی رنگ اپوزیشن کی جانب سے دیا گیا کیونکہ یہ ایک کمزور رگ ہے اور میں ایک اردو سپکنگ ہوں اس لیے اُنہوں نے مجھے نقصان پہچانے کے لیے یہ کیا۔ اور مجھے اور ایم کیو ایم کو جوڑنے کی کوشش کی کہ یہ دونوں ایک ہیں۔ اور لوگ مجھے بُرا بھلا کہیں۔ لیکن میں چھوٹے دماغ والا آدمی نہیں ہوں۔ میں تو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، اپوزیشن نے قومی اور لوکل گورنمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا اور ہم نے تو کسی پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ پارٹیاں ایک بندے اور بندی سے نہیں ہوتیں ہیں، پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل ن تو یہاں سیاست کر رہی ہیں اور وہ ہی تو سیاسی فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ یہ الیکشن کا سال ہے اور نواز شریف اور بے نظیر کے بارے میں چیزیں کافی واضح ہیں۔ نواز شریف کو یہاں سزا ہو چُکی ہے اور اُن کے خلاف مقدمات ہیں اور وہ خود ایک ملک کی سفارش پر اپنی مرضی سے گئے ہیں۔ اور وہ دوہزار دس تک دس سال کا معاہدہ کر کے گئے ہیں، اب وہ اُس سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔ بے نظیر کو ہم نہیں بھیجا وہ تو پہلے سے ہی گئی ہوئی ہیں اور اُن کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ اُن کو کسی نے نہیں کہا کہ آئیں یا نہ آئیں۔ ہم تو اُن کو کچھ نہیں کہہ رہے۔ میں نہ تو امریکہ کے لیے کر رہا ہوں نہ برطانیہ کے لیے، میں تو پاکستان کے لیے کر رہا ہوں۔ میں نے پہلے بھی یہ کہنے کی کوشش کی کہ نہ میں کوئی ایم کیو ایم ہوں نہ میں بلوچ، اردو سپیکنگ نہ پٹھان نہ اور پنجابی ہوں، میں تو صرف پاکستانی ہوں۔ اور میری نظر میں ہمیں کوئی غیر ملکی یہاں نہیں چاہیے وہ ہمیں خطرے میں ڈال رہے ہیں اور نمبر دو طالبانائزیشن پاکستان کامستقبل نہیں ہے۔ ہم روشن خیال اسلامی مملکت ہیں۔ | اسی بارے میں صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے22 May, 2007 | پاکستان فوجی وردی میری کھال ہے: مشرف22 May, 2007 | پاکستان ’مشرف نے کراچی کو جاگیر بنا دیا ہے‘20 May, 2007 | پاکستان ایم کیو ایم سے تعلق نہیں: مشرف18 May, 2007 | پاکستان ’مشرف ایم کیوایم روابط پر شک تھا‘17 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان ایمرجنسی افواہیں بے بنیاد: مشرف12 May, 2007 | پاکستان رب جانے یا مشرف09 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||