BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں

جنرل مشرف حالات کے کنٹرول میں؟
جنرل مشرف حالات کے کنٹرول میں؟
ہر فوجی آمر کی سیاست کی طرح صدر مشرف کی سیاست بھی وقت کے ساتھ ساتھ جی ایچ کیو کی بلند و بالا دیواروں سے نکل کر عوامی کٹہرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ سفر کافی دیر سے جاری تھا لیکن پچھلے چند مہینوں کے حالات سے اس میں اتنی تیزی آ رہی ہے کہ لگتا ہے اب عوامی دربار کا فیصلہ آنے میں زیادہ دیر نہیں۔

صرف اس سال مارچ سے لے کر اب تک ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیے۔

طالبان قبائلی علاقوں کی پہاڑی پناہ گاہوں سے اتر کر صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں پھیل جاتے ہیں۔ سکول کے بچوں کو خودکش بمباری کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کے سکولوں، موسیقی کی دکانوں اور حجاموں پر حملے ہوتے ہیں۔

ملک میں خود کش حملوں کا ایک سلسلہ چلتا ہے جس میں اعلی پولیس اہلکاروں سمیت بیسیوں ہلاک ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے طالبان دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خود کش بمباروں کی فوج ہے۔

فوجی حکمرانوں کے نسخے
 اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد صدر مشرف نے اپنے لیے جس راستے کا تعین کیا وہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے کوئی نیا نہیں۔ اس راستے کا بلیو پرنٹ یا بنیادی خاکہ ہر وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے دفتر میں موجود ہوتا ہے جسے ہر فوجی بغاوت کے بعد ہلکی پھلکی جھاڑ پونچھ کے بعد استعمال میں لایا جاتا ہے۔
اسلام آباد کے عین وسط میں ایک طالبان نما تنظیم کھڑی ہوتی ہے اور کمال دیدہ دلیری سے قانون کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے۔ اس تنظیم کے رہنماؤں پر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں لیکن کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔

قومی اسمبلی میں اسلام سے انحراف کے لیے موت تجویز ہوتی ہے جو مشرف حکومت کے اعتدالی نعرے کے بالکل برعکس ہے لیکن اس کے باوجود اس تجویز کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔

کراچی پولیس کو نہتا کر کے پورے شہر کو دن بھر کے لیے مسلح گروہوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ دو دنوں میں چالیس سے زیادہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

اس کے فورا بعد اسلام آباد کی تمام تر سکیورٹی کے باوجود سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کو ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی جاتی ہے۔

اور پشاور میں ایک خود کش بمبار ایک ہوٹل میں جا پھٹتا ہے جس سے بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو جاتے ہیں۔

پے در پے ہونے والے ان واقعات میں سے ہر ایک واقعہ صدر مشرف کے ایجنڈے کے کسی نہ کسی نقطے کی براہ راست نفی کرتا ہے۔ ملک بھر میں چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے۔ اور اگر نہیں تو آگے کیا ہونے والا ہے۔

اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد صدر مشرف نے اپنے لیے جس راستے کا تعین کیا وہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے کوئی نیا نہیں۔ اس راستے کا بلیو پرنٹ یا بنیادی خاکہ ہر وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے دفتر میں موجود ہوتا ہے جسے ہر فوجی بغاوت کے بعد ہلکی پھلکی جھاڑ پونچھ کے بعد استعمال میں لایا جاتا ہے۔

جنرل مشرف حالات سے آگاہ؟
 صدر مشرف نے ابھی تک کوئی ایسا عندیہ نہیں دیا جس سے لگے کہ وہ مسلسل تصادم کے خطرات سے آگاہ ہیں۔ وہ شاید ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ ماضی میں اٹھنے والے بہت سے بحرانوں کی طرح موجودہ بحران بھی وقت کے ساتھ ساتھ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔
جبری حکومت کے اس بنیادی خاکے کے مطابق ہر آمر کو اپنے لیے کسی نہ کسی قسم کی مقبولیت کا لبادہ درکار ہوتا ہے۔تاریخ جانتی ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی وردی پر ترقی کے بلے لگائے جبکہ جنرل ضیاءالحق نے اسے اسلام کے نعرے سے سجایا۔

اسی خاکے کے تحت صدر مشرف نے اپنے لبادے پر روشن خیالی، اعتدال پسندی اور معاشی ترقی کے بٹن ٹانکے۔اس کام میں ملکی سلامتی کے اداروں سمیت سیاسی طالع آزماؤں نے ان کی معاونت کی۔

لیکن اب اچانک یوں لگ رہا ہے کہ یہی معاون اپنے ہی لگائے گئے بٹنوں کو نوچنے پر تل گئے ہیں۔

سب نے دیکھا کہ عدالتی بحران کے اوائل میں ہی صدر مشرف کو اپنی کابینہ سے التجا کرنی پڑی کہ وہ ان کا نقطۂ نظر عوام تک پہنچائے۔ فوج کے دائمی حلیف چوہدری شجاعت حسین نے لال مسجد کے طالبان کی کھلم کھلا طرفداری کر کے صدر مشرف کی روشن خیالی کا سر عام منہ چڑایا۔

صدر کی ایک اور حلیف جماعت ایم کیو ایم نے کراچی میں فسادات کرا کے ان کی اعتدال پسندی کی دھجیاں بکھیر دیں۔ جبکہ ان فسادات اور خود کش حملوں کے سلسلے نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ دور مشرف میں ہونے والی معاشی ترقی کتنی پائیدار ہے۔

جانے سے پہلے ضیاء الحق یہ کہہ گئے کہ پاکستانی سیاست دراصل کوئلوں کی دلالی ہے جس میں آخر کار ہر کسی کا منہ کالا ہوتا ہے

سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی سلامتی کے جن اداروں نے ان کو روشن خیالی، اعتدال پسندی اور معاشی ترقی کا سبق پڑھایا تھا اب وہی ادارے ان کو ہر طرح کے سیاسی اور عسکری تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

صدر مشرف نے ابھی تک کوئی ایسا عندیہ نہیں دیا جس سے لگے کہ وہ مسلسل تصادم کے خطرات سے آگاہ ہیں۔ وہ شاید ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ ماضی میں اٹھنے والے بہت سے بحرانوں کی طرح موجودہ بحران بھی وقت کے ساتھ ساتھ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔

جنرل ضیاءالحق نے بھی 1988 میں جونیجو حکومت کو برخواست کرتے ہوئے شاید کچھ ایسا ہی سوچا ہو۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس قدم کے چند ہی ماہ بعد نہ تو وہ رہے اور نہ ہی ان کے چاہنے والے۔

لیکن جانے سے پہلے وہ یہ کہہ گئے کہ پاکستانی سیاست دراصل کوئلوں کی دلالی ہے جس میں آخر کار ہر کسی کا منہ کالا ہوتا ہے۔

’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
مشرفجوابی خودکش حملے
’مشرف کے لیے حکمت عملی پر نظرثانی کا وقت‘
حماد رضا (فایل فوٹو)حماد رضا کا قتل
’پولیس قاتل کو بچانے کے لیے وہاں تھی؟‘
ایم کیو ایم یہ حکم کس کا تھا
کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
رینجرزکراچی اور رینجرز
سڑکوں پر تشدد کے وقت رینجرز کہاں تھے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد