جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر فوجی آمر کی سیاست کی طرح صدر مشرف کی سیاست بھی وقت کے ساتھ ساتھ جی ایچ کیو کی بلند و بالا دیواروں سے نکل کر عوامی کٹہرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ سفر کافی دیر سے جاری تھا لیکن پچھلے چند مہینوں کے حالات سے اس میں اتنی تیزی آ رہی ہے کہ لگتا ہے اب عوامی دربار کا فیصلہ آنے میں زیادہ دیر نہیں۔ صرف اس سال مارچ سے لے کر اب تک ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیے۔ طالبان قبائلی علاقوں کی پہاڑی پناہ گاہوں سے اتر کر صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں پھیل جاتے ہیں۔ سکول کے بچوں کو خودکش بمباری کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کے سکولوں، موسیقی کی دکانوں اور حجاموں پر حملے ہوتے ہیں۔ ملک میں خود کش حملوں کا ایک سلسلہ چلتا ہے جس میں اعلی پولیس اہلکاروں سمیت بیسیوں ہلاک ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے طالبان دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خود کش بمباروں کی فوج ہے۔
قومی اسمبلی میں اسلام سے انحراف کے لیے موت تجویز ہوتی ہے جو مشرف حکومت کے اعتدالی نعرے کے بالکل برعکس ہے لیکن اس کے باوجود اس تجویز کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ کراچی پولیس کو نہتا کر کے پورے شہر کو دن بھر کے لیے مسلح گروہوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ دو دنوں میں چالیس سے زیادہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ اس کے فورا بعد اسلام آباد کی تمام تر سکیورٹی کے باوجود سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کو ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی جاتی ہے۔ اور پشاور میں ایک خود کش بمبار ایک ہوٹل میں جا پھٹتا ہے جس سے بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو جاتے ہیں۔ پے در پے ہونے والے ان واقعات میں سے ہر ایک واقعہ صدر مشرف کے ایجنڈے کے کسی نہ کسی نقطے کی براہ راست نفی کرتا ہے۔ ملک بھر میں چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے۔ اور اگر نہیں تو آگے کیا ہونے والا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد صدر مشرف نے اپنے لیے جس راستے کا تعین کیا وہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے کوئی نیا نہیں۔ اس راستے کا بلیو پرنٹ یا بنیادی خاکہ ہر وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے دفتر میں موجود ہوتا ہے جسے ہر فوجی بغاوت کے بعد ہلکی پھلکی جھاڑ پونچھ کے بعد استعمال میں لایا جاتا ہے۔
اسی خاکے کے تحت صدر مشرف نے اپنے لبادے پر روشن خیالی، اعتدال پسندی اور معاشی ترقی کے بٹن ٹانکے۔اس کام میں ملکی سلامتی کے اداروں سمیت سیاسی طالع آزماؤں نے ان کی معاونت کی۔ لیکن اب اچانک یوں لگ رہا ہے کہ یہی معاون اپنے ہی لگائے گئے بٹنوں کو نوچنے پر تل گئے ہیں۔ سب نے دیکھا کہ عدالتی بحران کے اوائل میں ہی صدر مشرف کو اپنی کابینہ سے التجا کرنی پڑی کہ وہ ان کا نقطۂ نظر عوام تک پہنچائے۔ فوج کے دائمی حلیف چوہدری شجاعت حسین نے لال مسجد کے طالبان کی کھلم کھلا طرفداری کر کے صدر مشرف کی روشن خیالی کا سر عام منہ چڑایا۔ صدر کی ایک اور حلیف جماعت ایم کیو ایم نے کراچی میں فسادات کرا کے ان کی اعتدال پسندی کی دھجیاں بکھیر دیں۔ جبکہ ان فسادات اور خود کش حملوں کے سلسلے نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ دور مشرف میں ہونے والی معاشی ترقی کتنی پائیدار ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی سلامتی کے جن اداروں نے ان کو روشن خیالی، اعتدال پسندی اور معاشی ترقی کا سبق پڑھایا تھا اب وہی ادارے ان کو ہر طرح کے سیاسی اور عسکری تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ صدر مشرف نے ابھی تک کوئی ایسا عندیہ نہیں دیا جس سے لگے کہ وہ مسلسل تصادم کے خطرات سے آگاہ ہیں۔ وہ شاید ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ ماضی میں اٹھنے والے بہت سے بحرانوں کی طرح موجودہ بحران بھی وقت کے ساتھ ساتھ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ جنرل ضیاءالحق نے بھی 1988 میں جونیجو حکومت کو برخواست کرتے ہوئے شاید کچھ ایسا ہی سوچا ہو۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس قدم کے چند ہی ماہ بعد نہ تو وہ رہے اور نہ ہی ان کے چاہنے والے۔ لیکن جانے سے پہلے وہ یہ کہہ گئے کہ پاکستانی سیاست دراصل کوئلوں کی دلالی ہے جس میں آخر کار ہر کسی کا منہ کالا ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ12 May, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان رہنما ہوش کے ناخن لیں: فاروق ستار13 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان وکلاء، سیاسی جماعتوں کا احتجاج14 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہلاکتیں، اسمبلی میں ہنگامہ15 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||