متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ہفتے کو رونماء ہونے والے تشدد کے واقعات کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے یوم سیاہ منایا گیا اور حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ ان احتجاجی ریلیوں میں کئی جگہوں پر ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلا وطن سربراہ الطاف حسین کے پتلے بھی جلائے گئے۔ لاہور لاہور کے ناصر باغ میں کراچی میں ہلاک ہونےوالے ایک نوجوان شجاع الرحمان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی نصراللہ گورایہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمیعت کا اکیس واں رکن ہے جو کراچی میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے۔
مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے دیگر پارٹی عہدیداروں کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ پیر کی ملک گیر ہڑتال میں حصہ لیں۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ نواز اور اپوزیشن کی دیگر قیادت کراچی میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے گھروں میں جاکر ان سے تعزیت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو ایم کیو ایم کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگی رہنما لاہور ایئر پورٹ روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے کراچی میں ہلاک ہونے والے اصغر شاہ کی میت وصول کی۔ بعد ازاں میت کو داتا دربار چوک لے جایا گیا جہاں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس نماز جنازہ میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور خاکسار تحریک سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ میت کو بعد میں ایک قافلے کے ساتھ کھاریاں روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر حزب مخالف کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ پیر کے روز مال روڈ پر احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔ پشاور ملک کے دیگر شہروں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر کراچی میں گزشتہ روز ہونے والے پرتشدد واقعات کے خلاف اتوار کو یوم سیاہ اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایم ایم اے کے زیراہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ صوبائی قائدین کی قیادت میں کیا گیا ہوا جس میں صوبائی وزراء اور اراکین پارلمینٹ نے بھی شرکت کی۔ مظاہرہ قصہ خوانی بازار سے شروع ہوا اور چوک یادگار میں جاکر جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔ مظاہرے میں شامل شرکاء نے صدر جنرل پرویز مشرف اور کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی ہلاکتوں پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ حکومت سے فوری طورپر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے زیراہتمام بھی ایک مظاہرہ پشاور پریس کلب کے سامنے کیا گیا جس کی قیادت صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکریٹری حاجی افضل نے کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے ’ گو مشرف گو ’ کے نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین سے خطاب میں لیگی رہنماؤں نے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ادھر ایم ایم اے کے مرکزی صدر قاضی حسین احمد نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی ذمہ داری صدر جنرل پرویز مشرف اور ایم کیو ایم پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن پندرہ مئی کو کراچی میں مشترکہ احتجاجی ریلی نکالنے پر غور کررہی ہے۔ اتوار کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الطاف حسین برطانیہ میں پناہ لےکر بیٹھے ہیں جبکہ کراچی میں غنڈوں کی حکومت ہے جسے جنرل مشرف کی براہ راست سرپرستی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کے واقعات کے بعد ان کے پونم کے رہنماؤں ، تحریک انصاف ، پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) ، اے این پی اور دیگر جماعتوں سے رابطے ہوئے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کے جنرل مشرف کو اقتدار سے بے دخل کیاجائے، ملک میں عبوری حکومت اور آزاد الیکشن کمیشن بنا کردستور کے تحت انتخابات کرائے جائیں۔
کراچی میں ہنگاموں کےخلاف اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کی کال پر اندرون سندھ کے سارے ضلع ہیڈ کوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں ہوئی ہیں۔ حیدرآباد، نواب شاہ، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، سکھر اور جیکب آباد سمیت سارے شہروں اور تحصیل ہیڈ کوارٹروں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق شکارپور کے جہاز چوک پر واقع ایم کیو ایم کے زونل دفتر کو نامعلوم افراد نے آگ لگا دی۔ایم کیو ایم کے مقامی رہنماؤں نے کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروائی۔ جیکب آباد میں پی پی پی، جی یو آئی اور ایس ٹی پی کے جلوس کے دوران مشتعل لوگوں نے شہر میں لگے ہوئے ایم کیو ایم کے جھنڈوں کو آگ لگا دی۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے پتلے بھی نذر آتش کیئے گئے۔ سکھر اور نواب شاہ میں کراچی کے ہنگاموں کے دوران ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ سندھ کے قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو کی جماعت عوامی تحریک کی جانب سے ان کے ایک کارکن محمد نواز کنرانی کی کراچی میں ہلاکت کے خلاف حیدرآباد، بدین، ٹھل اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں شٹر بند ہڑتال کی گئی۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان نے پیر کو پورے ملک میں کراچی کے واقعات کے بعد یوم دعا منانے کا اعلان کیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے وکلاء ’صوبہ بدر‘12 May, 2007 | پاکستان صدر کے جلسے کی تیاریاں مکمل12 May, 2007 | پاکستان پشاور: پیر سے پیہہ جام ہڑتال12 May, 2007 | پاکستان دھماکہ:سابق فراری کمانڈر زخمی12 May, 2007 | پاکستان کراچی: مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان کراچی کے خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||