صدر کے جلسے کی تیاریاں مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو حکمران مسلم لیگ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے ہونے والے جلسہ عام کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ یہ ملکی تاریخ کا پہلا عوامی جلسہ ہوگا جو پارلیمان کے سامنے منعقد کیا جا رہا ہے اور جس کے لیے پارلیمان کو جانے والے تمام راستے بند کیے گئے ہیں جبکہ صدر جنرل مشرف کا بھی اسلام آباد میں یہ پہلا عوامی جلسہ ہوگا۔ جلسے میں حفاظتی انتظامات کے لیے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے چار ہزار سے زائد اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے جبکہ رینجرز اور فوج کے اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس جلسہ عام کے اخراجات سرکاری خزانے سے پورے کیے جا رہے ہیں۔
جمعہ کی سہ پہر جلسہ گاہ میں مزدوروں کی بڑی تعداد پارلیمان کے سامنے سڑک کو بلاک کرنے کے لیے آہنی رکاوٹیں نصب کرنے اور جلسہ گاہ کے چاروں طرف جنرل مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز، حکمران مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت اور وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی دیوقامت تصاویر، فلڈ لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم نصب کرنے میں مصروف نظر آئی جبکہ کیپیٹل ڈویلپمینٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کی کرینوں اور ٹینکرز سمیت دیگر سرکاری ذرائع کا استعمال بھی ہوتا نظر آیا۔ پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی نے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس میں کیمپ آفس قائم کر دیا ہے۔ جمعہ کی سہ پہر وہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ جلسہ عام کے انتظامات کے لیے سرکاری وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ساری فنڈنگ پاکستان مسلم لیگ، اسکے عہدیدار، ہمارے ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے اپنے طور پر کررہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کو ہم نے کرایہ بھی ایڈوانس دیدیا ہے اور ٹول ٹیکس بھی پیشگی ہی ادا کر دیا ہے۔ کوئی کام آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جس میں سرکاری وسائل کا استعمال ہورہا ہو۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ صوبہ بھر سے لوگوں کو جلسے میں لانے کے لیے بڑی تعداد میں گاڑیاں تحویل میں لی گئی ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی بنا پر لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو انہوں نے کہا ’ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ وہ پیسے دیکر بس کرائے پر لے سکتا ہے تو ہم نے بھی ایڈوانس پیمنٹ کرکے بسیں کرائے پر لی ہیں۔ جب بھی اپوزیشن جلسے کرتی ہے تو وہ بھی ٹرانسپورٹ استعمال کرتی ہے، ٹرانسپورٹرز کی مرضی ہے وہ اپنی گاڑیاں کرائے پر کسی کو بھی دے سکتے ہیں یہ تو ایسی کوئی بات نہیں۔‘ واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کا یہ چھٹا عوامی جلسہ ہوگا۔ اس جلسے کے بارے میں حکمران مسلم لیگ کے رہنماؤں کا دعوی ہے کہ وہ اب تک چیف جسٹس کے حق میں حزب مخالف کی جانب سے منعقد کردہ جلسے جلوسوں سے بڑا ہوگا اور ان کے مطابق اس کا ایک مقصد یہ ثابت کرنا بھی ہے کہ عوام کی اکثریت حزب مخالف سے زیادہ صدر جنرل مشرف کے ساتھ ہے۔ | اسی بارے میں صدر کے جلسوں میں تیزی10 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: سوئی چھاؤنی کا افتتاح10 May, 2007 | پاکستان مشرف کی وکلاء کو وارننگ05 May, 2007 | پاکستان جلسہ صدر کا، مشکل عوام کی03 May, 2007 | پاکستان ’ہم کریں تو لاٹھیاں وہ کریں تو چھٹیاں‘27 March, 2007 | پاکستان صدارتی جلسہ، گاڑیاں عارضی ضبطی26 March, 2007 | پاکستان ’صدارتی انتخاب الیکشن سے پہلے‘27 April, 2007 | پاکستان ڈیل کی کڑوی گولی نگلنا ہوگی30 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||