BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم کریں تو لاٹھیاں وہ کریں تو چھٹیاں‘

شہر میں لگائے گئے پوسٹر اور بینرز
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عدالتی معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور حکومت اس معاملے پر کسی کو خلفشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔



منگل کو نالہ لئی کے کناروں پر بائیس کلومیٹر نان سٹاپ سڑک تعمیر کرنے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد لیاقت باغ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حزب مخالف کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف پیر کو کیے گئے احتجاج کو ناکام قرار دیا۔

صدر نے خود کش حملوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے عوام سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی روکنے میں سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تین خود کش بمباروں کی فلمیں دیکھ چکے ہیں جو جنت کے چکر میں حملے کرتے ہیں۔ صدر کے مطابق خود کش حملہ جنت کا راستہ نہیں ہے۔

صدر نے گمشدہ افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کئی لاپتہ افراد ایسے ہیں جنہیں شدت پسند گروہوں نے اکسایا اور وہ والدین کو بتائے بنا شدت پسندوں سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہا کہ وہ جاکر ایسے جہادیوں کو دیکھیں جو نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور پاکستان سے انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کی کوشش جاری رکھیں گے کیونکہ ان کے بقول ان کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔

صدر کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیئے راولپنڈی شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ شہر کی مرکزی شاہراہ مری روڈ کے ایک بڑے حصے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا جس سے عام لوگوں کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر ان تمام سکیورٹی انتظامات کے باوجود لیاقت باغ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع آرمی ہاؤس سے بذریعہ ہیلی کاپٹر جلسہ گاہ پہنچے۔

سکیورٹی انتظامات کا یہ عالم تھا کہ جلسہ گاہ سے متصل راولپنڈی پریس کلب کو بھی انتظامیہ نے سیل کردیا اور صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی۔
جنرل پرویز مشرف کے اس جلسے میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیئے صوبائی مشینری اور ضلعی انتظامیہ گزشتہ تین روز سے بھرپور تیاریوں میں مصروف تھی اور ایک ہزار کے لگ بھگ بسیں، ویگنیں اور سوزوکیوں کو پکڑ رکھا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کی شرکت یقینی بنائی جاسکے۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے اپنے خطاب

صدارتی جلسہ
 حزب اختلاف کے جلسوں میں ہمیں لاٹھیاں ماری جاتی ہیں جبکہ صدر مشرف کے جسلے کے لیے لوگوں کو چھٹیاں دی جاتی ہیں۔
راجہ پرویز اشرف

میں صدر کی تعریف کی اور حزب مخالف کی جماعتوں پر تنقید کی۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کو جھوٹا قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے جلسے میں شرکا کی تعداد کئی ہزار ہے۔ جبکہ بعض مقامی صحافیوں کے مطابق شرکا کی تعداد سات سے آٹھ ہزار رہی اور ماضی میں شیخ رشید اس سے بڑے جلسے کرتے رہے ہیں۔

کچھ مقامی صحافیوں نے کہا کہ جس طرح تین روز سے حکومتی سطح پر جلسے کی تیاریاں ہورہی تھیں اس کی نسبت حکومت بڑا شو کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ البتہ ان کے مطابق حزب مخالف کے جلوس سے حکومتی جلسے کے شرکا کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ قومی خزانے سے جلسے کے اخراجات اٹھائے جا رہے ہیں

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے راولپنڈی ضلع کی فی یونین کونسل کو پچاس لاکھ روپے امداد دینے کا بھی اعلان کیا۔ صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے حکومتی ترقیاتی کاموں کی تفصیل بتائی اور آئندہ منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کو ووٹ دیں۔

راولپنڈی جہاں بری فوج کا ہیڈ کوارٹر بھی واقع ہے وہاں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیئے گئے ہیں۔ لیاقت باغ میں صدر مشرف کے جلسے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔

سٹیج کے آس پاس بندق بردار فوجی کمانڈوز تعینات تھے جبکہ سٹیج سے دو سؤ فٹ دور ناظمین کے لیے کرسیاں رکھی گئی تھی۔ پانچ کرسیوں کی قطاروں میں سے تین خالی تھیں جبکہ دو قطاروں میں ناظمین اور سادہ کپڑوں میں سیکورٹی اہلکار بیٹھے رہے۔ ان کے عقب میں آہنی جنگلے کے پیچھے شرکاء موجود رہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے صدر کے جلسے میں حکومتی مشینری کے استعمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’حزب اختلاف کے جلسوں میں ہمیں لاٹھیاں ماری جاتی ہیں جبکہ صدر مشرف کے جسلے کے لیے لوگوں کو چھٹیاں دی جاتی ہیں۔‘

شہر میں جگہ جگہ صدر مملکت جنرل پرویز مشرف، وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی بڑی بڑی تصاویر والے بورڈ، بینر اور مسلم لیگ (ق) کے پرچم لگے ہوئے ہیں۔

دو روز سے ملک کی بیشتر اخبارات میں مرکزی، پنجاب کی صوبائی اور راولپنڈی کی ضلعی حکومت کی جانب سے بیشتر اخبارات میں لاکھوں روپے مالیت کے اشتہارات بھی شایع کرائے گئے ہیں۔ چھبیس تاریخ کی اخبارات میں پورے رنگین صفحہ جبکہ ستائیس کی اشاعت میں نصف صفحے کے اشتہارات شایع کرائے گئے ہیں۔

پرویز اشرف نے الزام لگایا کہ فی پٹواری کو ساٹھ افراد جلسہ گاہ میں پہنچانے کی ڈیوٹی دی گئی ہے اور اس میں پندرہ کے قریب کالے کوٹ والے بھی ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق ان کے ایک جاننے والے پٹواری نے انہیں بتایا کہ ان افراد کو لانے اور لے جانے اور کھلانے اور پلانے کے اخراجات بھی پٹواری کو دینے ہیں۔

حکمران مسلم لیگ کے ایک ترجمان نے حزب مخالف کے الزامات کو مسترد
کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ان کی حکومتوں کے دوران وہ خود ایسا کرتے رہے ہیں اس لیے ان پر الزامات لگا رہے ہیں۔ تاہم شہر میں عام تعطیل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ایسا سیکورٹی کے انتظامات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
مشرف: سیاسی سرگرمیوں پر بحث
07 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد