’خواتین دہشت گردی روکیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف نےخواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور خودکش حملوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل مشرف نے یہ اپیل جمعرات کو عورتوں کےعالمی دن کی مناسبت سے اسلام آباد کنونشن سنٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں اپنےخطاب کے دوران کی۔ انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’ میں پاکستان کی تمام خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان مردوں اور خواتین کو دہشت گردی سے روکیں جو انکے دائرہ اثر میں آتے ہیں۔، انہوں نےمزید کہا کہ انتہا پسندی ایک ایسی دماغی کیفیت ہے جو کسی بھی شخص کو خودکش حملہ کرنے پر تیار کرسکتا ہے لہذا خواتین کو اس سلسلےمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ دہشت گردی ایک دیمک ہے جسکا اگر راستہ نہیں روکا گیا تو یہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرسکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے فوج اور پولیس تنہا نہیں نمٹ سکتی بلکہ اس کواجتماعی کوششوں اور اتحاد ہی سے روکا جاسکتا ہے۔ جنرل مشرف نے ایک بار پھر کہا کہ جہاد کسی فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے۔ ’تحفظ نسواں، تصور سے حقیقت تک، کے عنوان کے تحت اس کنونشن میں جنرل مشرف نے ان کی حکومت کی جانب سے خواتین کی معاشی، سیاسی اور تعلیمی ترقی اور اختیارات سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انکا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نےبلدیاتی اداروں، صوبائی و قومی اسمبلیوں اور سینٹ میں عورتوں کو نمائندگی دیکر چالیس ہزار خواتین کوسیاسی عمل کا حصہ بنا دیا ہے جسکی مثال کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں نہیں ملتی۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ملک کی تاریح میں پہلی مرتبہ خواتین کو فوج میں بھرتی کیا گیا ہے حالانکہ اس سے قبل صرف خواتین ڈاکٹرز ہی فوج میں بھرتی ہوسکتی تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملازمتوں میں خواتین کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر دس فیصد کر دیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت تین فیصد خواتین اس کوٹہ سے مستفید ہورہی ہیں۔ تقریب میں وفاقی وزراء، اراکین پارلیمان اور اعلی سرکاری افسران کے علاوہ سکولوں اور کالجوں کی طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ملک کے نامور خواتین گلوکاروں نے عورتوں کی عظمت سے متعلق نغمے اور گیت بھی پیش کیے۔ اس دوران بعض ایسی خواتین کی کہانیاں بھی سنائی گئیں جو کسی نہ کسی طرح سے حکومتی پالیسیوں سے مستفید ہوئی ہیں البتہ حاضرین نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی شکار ہونے والے مختارا مائیں اور ڈاکٹر شازیہ کی کہانیاں نہ سنانے کو شدت سے محسوس کیا۔ کنونشن سینٹر میں داخلےکے وقت سخت تلاشی لی گئی اور صحافیوں کو کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ دریں اثنا خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے پاکستان کے انسانی حقوق کی تنظیم کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں ایک جلوس نکالا۔ جلوس میں بڑی تعداد میں شامل خواتین ’ میری بہنیں خاموشی کو توڑیں گی ، کا گیت گاتے ہوئے پارلیمان کی طرف بڑھتی رہیں۔ انہوں نے وٹہ سٹہ ہائے ہائے، سورہ ونی ہائے ہائے اور کاروکاری ہائے ہائے کے نعرے بھی لگائے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک سرگرم رکن طاہرہ عبداللہ نے اس موقع پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حال ہی میں بنائے گئے تحفظ نسواں بل میں موجود سقم کو دور کردے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس سال خواتین کے حقوق کا دن ایسے وقت منایا جارہا ہے جب صوبہ سرحد میں بعض سخت گیر مذہبی سوچ رکھنے والے عناصر مخلوط تعلیم کو ختم کرنے کی دہمکیاں دے رہے ہیں جبکہ درہ آدم خیل میں مبینہ طور پر لڑکیوں کے سکولوں کو بارہا بم حملوں کانشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’عورتیں اور ملا ملٹری اتحاد‘17 November, 2006 | پاکستان بل کے مخالفین منافق ہیں: مشرف05 December, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ03 February, 2007 | پاکستان بلوچستان پولیس، 50 خواتین افسر09 February, 2007 | پاکستان عورتوں کی عالمی دن پر کراچی ریلی07 March, 2007 | پاکستان حکومتی دعوے، NGOs اور ڈرامے08 March, 2007 | پاکستان عورت کا انتقام08.07.2003 | صفحۂ اول ’حدود آرڈینینس، بحث کی ضرورت‘10 February, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||