’عورتیں اور ملا ملٹری اتحاد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو اناسی میں آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے گئے حدود قوانین میں کی گئی حالیہ ترامیم کے نتیجے میں اب زنا کے الزام میں گرفتار عورت کی ضمانت ممکن ہو سکے گی اور اس پر الزام لگانے والا اگر مطلوبہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے گا تو قذف کے الزام کے تحت دھر لیا جائے گا۔ یہ ان بہت ساری چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں میں سے ایک ہے جو ’تحفظ نسواں بل‘ کے تحت زنا قوانین میں متعارف کرائی گئی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے اسلام کے نام پر پچھلے ستائیس سال سے ظلم کا شکار عورتوں کو کسی حد تک سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔ ذرائع ابلاغ، قانون دان اور سیاست دان ترامیم کے بعد حدود قوانین کی بننے والی نئی شکل پر غوروفکر کریں گے، اس حوالے سے بحث و مباحثہ کے لیے بہت کچھ ہے بھی سہی کیونکہ ان قوانین کے حوالے سے ہمیشہ ابہام رہا ہے۔ لوگ آج تک ان قوانین کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہیں اور موجودہ بل کے حوالے سے جب جوش وخروش ٹھنڈا پڑے گا تو معلوم ہوگا کہ شادیانے بجانے کا
ایسے قوانین کو، جن کے تحت جنسی زیادتی، زنا، چوری اور شراب نوشی جیسے معاملات میں عورتوں اور غیر مسلموں کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں، کو کسی نہ کسی صورت برقرار رکھنے کی بجائے مکمل طور پر ختم کر دینا زیادہ مناسب ہوتا۔ کوڑے لگانا اور سنگساری جیسی بھیانک سزاؤں کا اب کوئی جواز نہیں۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بنائے گئے ’نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن‘ نے بھی حدود قوانین کے مکمل خاتمے کی تجویز دی تھی لیکن صدر مشرف نے اسے نظر انداز کیا ہے۔ لیکن خواتین کے حقوق سے متعلق بعض امور پر صدر مشرف نے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے پارلیمان اور مقامی حکومتوں میں خواتین کی مخوص نشستیں بحال کیں اور مزید یہ کہ ’تحفظ نسواں بل‘ میں بعض ایسی شقیں ہیں جو عورتوں کے لیے سود مند ہونگی۔ ان میں زبردستی کا بیاہ، عورتوں کی خریدوفروخت اور جبراً جسم فروشی کی روک تھام اور نابالغہ سے زنا کی (قانون کی نظر میں) وضاحت شامل ہیں۔ اگر قرآن سے نکاح اور ونی جیسی روایات پر پابندی لگانے کے حوالے سے مجوزہ قانون سازی بھی ہو جاتی تو بہتر ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر نے خواتین کے حقوق سے متعلق ان امور سے راہِ فرار اختیار کی ہے جن پر حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ میں موجود
پہلے غیرت کے نام پر قتل روکنے کے حوالے سے ایک بل کو غیر مؤثر کیا گیا اور اب زنا آرڈیننس جیسے ناپسندیدہ قوانین کو ختم کرنے کی بجائے صرف ترامیم کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ عورتوں کو ہمیشہ سیاسی مصلحت پسندی کی نذر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے ضیاء دور سے چلی آتی ’ملٹری مُلا‘ ساجھے داری نے انتہائی خطرناک کردار ادا کیا ہے۔ اب جبکہ مستقبل قریب میں نئے انتخابات ہونے والے ہیں تو کیا خواتین کو ایک بار پھر سیاسی مصلحت کی بھینٹ چڑھایا جائے گا، خصوصاً جب جنرل مشرف ایوان صدارت میں ایک اور مدت کے لیے رہنا چاہتے ہوں؟ چنانچہ ہم خود کو خوش قسمت سمجھیں گے اگر ’تحفظ نسوان بل‘ میں سے ہمارے لیے کچھ اچھا نکل آتا ہے اور شاید اگلے پچیس سال تک یہ بہت ہو۔ | اسی بارے میں حدود قوانین: تھانے سے عدالت تک17 November, 2006 | پاکستان حدود کی سیاسی اور قانونی حدود16 November, 2006 | پاکستان حدود بل: جب چاہے قابو کرلو15 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی06 November, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد14 September, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش 07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||