توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک عیسائی خاتون کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے چونیاں کی اس خاتون کے خلاف آئین کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت یہ مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس جرم کی سزا موت ہے۔ آل پاکستان مائینارٹی الائنس کے عہدیداروں نے اس مقدمہ کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ دوہفتے سے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں قید مارتھا اور اس کا شوہر نواحی گاؤں کوٹ نانک سنگھ کے رہائشی ہیں اور تعمیراتی مقصد کے لیے استعمال ہونے والے شہتیر اور بانس وغیرہ کرائے پر دیتے ہیں۔ انہوں نے مقامی مسجد شیر ربانی کی تعمیر کے لیے بھی چند شہتیر اور بانس کرائے پر دیے تھے۔ دو ہفتے قبل تھانہ مانگا میں پاکستان کی زیر دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت درج ہونے والے مقدمہ کے مدعی محمد دلبر نے الزام عائد کیا ہے کہ مارتھا بی بی نےزیر تعمیر مسجد شیر ربانی کے سامنے آکر کرائے کے پیسوں کا مطالبہ کیا اور ایسے کلمات ادا کیے جو ان کے بقول توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس مقدمہ کے گواہ محمد اسلم اور محمد رمضان ہیں۔ قصور کے ضلعی پولیس افسر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں سو فی صد تصدیق کے بغیر مقدمہ درج نہیں کرسکتے تھے اور جب پولیس کو مکمل یقین ہوگیا تو تب ہی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس مقدمہ کا چالان عدالت بھجوادیا ہے۔ آل پاکستان مائینارٹی الائنس کی سنٹرل کمیٹی کے ممبر اور رکن پنجاب اسمبلی پرویز رفیق نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے اور ان کے بقول مارتھا بی بی توہین رسالت کی مرتکب نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ، مقدمہ کے ایک گواہ رمضان کی بیوی ننھی کے ساتھ ملزمہ مارتھا کے ایک معمولی تنازعہ کا نتیجہ ہے۔ اقلیتی ایم پی اے نے کہا کہ انہوں نے معاملے کی اپنے طور پر تحقیق کی ہے جس کے مطابق مسجد کے سامنے رمضان کی بیوی ننھی کی ایک دکان ہے اور مارتھا نے چند روز قبل اس سے چند کلو گندم خریدنے کے بعد واپس کر دی تھی جس کا ان کے بقول ننھی کو رنج تھا، اور بائیس جنوری کو جب مارتھا مسجد کو دیے اپنے بانس اور شہتیر واپس لینے آئی تو اس کی ننھی سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس کا ایف آئی آر میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ ضلعی پولیس افسر کے بقول خاتون کو خود اس کے اہل خانہ نے پولیس کے حوالے کیا تھا۔اقلیتی رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ گواہ رمضان نے مسجد سے اعلانات کیے تھے اور مارتھا کو اس کے ایک مسلمان ہمسائے نے اپنے گھر پناہ دی تھی تاہم بعض دوسرے محلے داروں کی اطلاع پر پولیس اسے پکڑ کر لے گئی۔
مارتھا بی بی کے وکیل ایزرا شجاعت نے کہا کہ انہوں نے ایف آئی آر کے خاتمے کے لیے ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کر دی ہے اور ہائی کورٹ کے جج خواجہ شریف نے نو فروری کو مقدمہ کے تفتیشی افسر کو عدالت میں طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارتھا بی بی کی ضمانت کے لیے دائر کردہ ایک الگ درخواست کی سنیچر کو ایڈیشنل سیشن چونیاں کی عدالت میں سماعت تھی لیکن پولیس نے عدالت میں ریکارڈ پیشں نہیں کیا جس پر سماعت دس فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اقلیتی ایم پی اے نے کہا کہ اس گاؤں میں عیسائیوں کے درجن بھر سے زائد گھر ہیں جنہیں اب مشکلات کا سامنا ہے۔ مارتھا بی بی کے رشتہ داروں کو بعض مقامی مسلمان دکانداروں نے سودا سلف دینے سے انکارکر دیا ہے۔ مارتھا بی بی کے ایک رکشہ ڈرائیور کزن کے ساتھ لوگوں نے اپنے بچے سکول بھیجنے بند کردیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ضلعی پولیس افسر نے حالات کشیدہ ہونے کے معاملات کی تردید کی ہے۔ مارتھا کے وکیل نے کہا ہے کہ تعزیرات پاکستان کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دو سو پچانوے سی کی سزا موت ہے۔ پاکستان میں کئی مقدمات میں ماتحت عدالتوں نے اس قانون کے تحت سزائے موت سنائی جنہیں بعد میں اعلی عدالتوں نے کالعدم کردیا۔ انسانی حقوق کے بعض ادارے توہین رسالت کے اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے جس کا نشانہ عام طور پر پاکستان میں اقلیتیں بنتی ہیں۔ | اسی بارے میں مسیحی پر توہینِ رسالت کا الزام11 September, 2005 | پاکستان توہین رسالت کا الزام، گرفتاری14 March, 2006 | پاکستان توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کیا جائے17 April, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان ’توہینِ قرآن‘ کا دوسرا ملزم ہلاک24 June, 2006 | پاکستان ’توہینِ مذہب کیس ریاستی اجازت سے‘31 October, 2006 | پاکستان توہین قرآن ، دو ملزموں کو سزا25 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||