BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 March, 2006, 22:44 GMT 03:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین رسالت کا الزام، گرفتاری

پاکستان کا توہین رسالت کا قانون دنیا کی نظر میں رہا ہے
جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں ایک شخص کی طرف سے مبینہ طور پر اللہ اور پیغمبر اسلام کے خلاف ’غیرمناسب کلمات‘ کہنے پر سینکڑوں لوگوں نے منگل کے روز جلوس نکالا اور بین الصوبائی شاہراہ کئی گھنٹے تک بند کیئے رکھی۔

مظاہرین مذکورہ شخص کو ’واجب القتل‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس نے ’عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت‘ کے مقامی رہنا مولانا عبدالرشید کی درخواست پر ناموس رسالت کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت مقدمہ درج کر کےملزم عبدالستار گوپانگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ جرم ثابت ہونے ملزم کو اس قانون کے تحت موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

مولانا رشید کے مطابق پیر کی شام وہ جتوئی کے علاقے میں واقع اپنے مدرسے سے ملحقہ مسجد میں مغرب کی نماز کے لیئے وضو کر رہے تھےکہ انہیں قریب ہی میں واقع گاڑیوں سے ’ٹال ٹیکس‘ وصول کرنے والی چوکی سے ٹھیکیدار عبدالستار گوپانگ کی آوازیں سنائی دیں جو کسی کے ساتھ لڑتے ہوئے مبینہ طور پر اللہ اور پیغمبر کی شان میں ’گستاخی‘ کر رہا تھا۔

مولانا کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق حقیقت حال جاننے کے لیئے جب وہ چوکی کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ عبدالستارگوپانگ ایک ٹرک ڈرائیور اکرم کے ساتھ ٹال ٹیکس کے مسئلے پر دست و گریباں تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ڈرائیور اکرم اسے خدا و رسول کے واسطے دے رہا تھا جبکہ وہ جھگڑا ختم کرنے کی بجائے مقدس ہستیوں کو گالیاں دے رہا تھا۔

اس پر مساجد میں لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے لوگوں کو ’سانحے‘ کے بارے بتایا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ اکھٹے ہوگئے۔ لوگوں کو مشتعل ہوتا دیکھ کر عبدالستار گوپانگ موقع سے فرار ہوگیا جس پر لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلائے اور سندھ اور پنجاب کو ملانے والی شاہراہ ٹریفک کے لیئے بند کردی۔

تاہم پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ملزم عبدالستار گوپانگ کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا اور منگل کی صبح ایک عدالت سے ان کا چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ حاصل کر کے انہیں جیل بھجوا دیا جہاں حکام کے مطابق انہیں ایک علیحدہ سیل میں رکھا گیا ہے۔

مظفر گڑھ کی تحصیلوں علی پور اور جتوئی میں منگل کے روز تمام بازاربھی احتجاجاً بند رہے۔ حکام نے ڈی ایس پی ملک یعقوب کو اس واقعہ کی تحقیقات کے لیئے انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔

مبصرین کاکہنا ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں لوگ آپسی رنجش کی وجوہات سے کئی بار حالات کو توہین رسالت کا مقدمہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں
12 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد