گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک مشتعل ہجوم نے پنجاب کے قصبے سانگلہ ہِل میں دوگرجا گھروں کو آگ لگا دی جس کے بعد پولیس نے اٹھاسی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب جمعہ کے روز مبینہ طور پر ایک عیسائی شخص یوسف مسیح نے قرآن کے پھٹے پرانے صفحات کو آگ لگا دی۔ یہ صفحات ایک ایسی جگہ پڑے ہوئے تھے جہاں لوگ قرآن کے پرانے نسخے چھوڑ جاتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسیحی برادری کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ قرآن کی مبینہ بےحرمنی کے واقعے کے خلاف مقامی سطح پرہفتے کے روز عام ہڑتال کی گئی۔ صبح دس بجے کے قریب سینکڑوں مسلمان مظاہرین سانگلہ ہل میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے ایک کیتھولک چرچ، ایک پریسبیٹیرین چرچ، ایک کانونٹ مشنری اسکول اور ایک ہاسٹل کو آگ لگادی اور وہاں موجود چیزوں کی توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین نے عیسائی آبادی کے محلہ کرسچن کالونی پر بھی حملہ کیا اور چند مکانات کو نقصان پہنچایا۔ مظاہرین نے راہباؤں اور طالبعلموں پر بھی حملے کیے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سانگلہ ہل پولیس کے ایک افسر کےمطابق اس واقعے کے سلسلہ میں یوسف مسیح سمیت اٹھاسی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس استعمال کرکے مظاہرین کو قابو میں کیا۔ شام گئے تک شہر میں دو سو پولیس جوان تعینات تھے۔ تاہم صورتحال کشیدہ تھی۔ سانگلہ ہل میں موجود ننکانہ کے ضلعی پولیس آفیسر طاہر عالم نے بتایا کہ پولیس کی کوشش سے کسی عیسائی فرد کو جانی نقصان نہیں پہنچنے دیا گیا اور پولیس نے راہباؤں کو اپنی حفاظت میں لے کر ہنگامہ آرائی کی جگہ سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ شیخوپورہ کے ڈپٹی پولیس انسپکٹر پرویز رحیم راجپوت نے عیسائی پادریوں سے بات چیت کی ہے۔ طاہر عالم نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اب تک اٹھاسی افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ قران مجید جلانے کے ملزم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ شام گئے عیسائی افراد اپنے گھروں میں واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔سانگلہ ہل میں پچاس عیسائی خاندان آباد ہیں۔ ادھرعیسائی رہنماؤں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس الزام کی تردید کی ہے کہ یوسف مسیح نےقرآن کی بےحرمتی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یوسف مسیح پر یہ الزام جوئے پر ایک جھگڑے کے نتیجہ میں لگایا گیا۔ عیسائی رہنما سیسل چودھری اور انسانی حقوق کی رہنما شاہ تاج قزلباش نے الزام لگایا کہ دو گرجا گھروں اور اسکولوں کو آگ لگائی گئی جس کے لیے مظاہرین بسوں میں بھر کو قصبہ کے باہر سے لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی پولیس افسر کو واقعہ سے بارہ گھنٹے پہلے کشیدہ صورتحال کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا لیکن پولیس چرچوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔ | اسی بارے میں توہین رسالت کاملزم ہلاک12 January, 2005 | پاکستان ہندو جوڑا: قرآن کی بے حرمتی پر گرفتار02 September, 2005 | پاکستان مسیحی پر توہینِ رسالت کا الزام11 September, 2005 | پاکستان قرآن کی مبینہ بےحرمتی پر قتل20 April, 2005 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم، تدفین متنازعہ05 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||