’مسئلہ قانون نہیں عملدرآمد ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے مذہبی رہنما آرچ بشپ آف کینٹربری، ڈاکٹر روون ولیمز نے، جو آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں، ملک کے صدر سے اپیل کی ہے کہ توہین رسالت کے قانون پر از سر نو غور کیا جانا چاہئیے۔ اس متنازعہ قانون کے تحت توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جا سکتی ہے جبکہ پاکستان کی مسیحی آبادی کا کہنا ہے کہ اس قانون کا ان کے خلاف غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ پچھلے ہفتے بھی پاکستان میں سانگلہ ہل کے علاقے میں ایک عیسائی شخص پر اس الزام کے بعد کہ اس نے مبینہ طور پر قران کو آگ لگائی تھی، ایک ہجوم نے ایک چرچ اور کونوینٹ سکول کو آگ لگادی تھی۔ ڈاکٹر ولیمز کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ قانون ذاتی انتقام کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ شائد خود قانون میں نہیں بلکہ اس کے لئے رکھی گئی سخت ترین سزا اور جس طرح عملی طور پر اس کا استعمال کیا جارہا ہے، اس سے ہے۔ ڈاکٹر ولیمز نے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل مشرف سے کہا ہے کہ وہ اس قانون کے عملدرآمد کی نگرانی کروائیں۔ | اسی بارے میں گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں12 November, 2005 | پاکستان افغانستان میں مدیر زیرِ حراست 06 October, 2005 | آس پاس ہندو جوڑا: قرآن کی بے حرمتی پر گرفتار02 September, 2005 | پاکستان قرآن کی ’بےحرمتی‘ کے قوانین 21 April, 2005 | Debate توہین رسالت کاملزم ہلاک12 January, 2005 | پاکستان قبرستان سے باہر تدفین05 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||