افغانستان میں مدیر زیرِ حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں شائع ہونے والےایک رسالے کے مدیر کومبینہ طور پر قابلِ اعتراض مضامین چھاپنے پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ ’ً حقوق زن‘ً نامی رسالے کے مدیرِ اعلی محقق نصب کو جمعرات کو صدر کرزئی کے مذھبی مشیرمحی الدین بلوچ کے کہنے پر حراست میں لیا گیا، جن کا کہناہے کہ انہون نےوہ تمام رسالے جن میں ان کے بقول قابل اعتراض مضامین تھے سپریم کورٹ کو بھجوا دیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ رسالے اٹارنی جنرل کو بھیجے جنہوں نے جائزہ لینے کے بعد مذکورہ مدیر کی حراست کا حکم جاری کیا۔ 50 سالہ نصب نے اپنے مضامین میں چوروں ، قاتلوں، اور زانیوں کیلئے مقرر کردہ اسلامی سزاکی ضرورت کے تقاضے پر سوال اٹھایا تھا جس پر کچھ مذھبی رہنماؤں نے اعتراض کیا تھا۔واضح رہے کہ روایتی اسلامی قانون کی رو سے قاتلوں کو موت ، زانیوں کو سنگساری اور چوروں کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جانی چاہیے۔ دوسری طرف نائب وزیرِ اطلاعات و نشریات سنگچراکی کے مطابق نصب کی گرفتاری تکنیکی طور پر اس وقت تک غیر قانونی ہے جب تک کے سرکاری میڈیا کمیشن ان سے پوچھ گچھ کر کے یہ فیصلہ نہیں کر لیتا کےان کوحراست میں رکھا جائے یا رہا کر دیا جائے ۔ نیویارک اور پیرس میں واقع صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حراست کی مذمت کی ہے اور نصب کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہےاور کہا ہے کے اس سے ظاھر ہوتا ہے کے افغانستان میں صحافت کی آزادی کو خطرہ لاحق ہے۔ نیویارک میں واقع ’ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے مطابق نصب کی گرفتاری پریشان کن ہے، اور پیرس میں واقع ادارے ’ رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز ‘ حکام کو پرامن طریقے سے اپنی رائے کا اظہارکرنے والے کسی بھی شخض کو گرفتار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ نصب کے بقول وہ اپنے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ کا عدالت میں دفاع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||