افغان خواتین کی حالت نہیں بدلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے باوجود وہاں عورتوں کی حالت زار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اور جاگیرداری نظام کی جڑیں افغانستان میں آج بھی اسی طرح مضبوط ہیں جس طرح وہ طالبان کے دور میں تھیں اور افغان معاشرے کا عورت کی طرف رویہ وہی ہے جو طالبان کے وقت تھا۔ افغانستان میں عورتوں کو آج بھی مردوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور ان کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں عورت کی حالت زار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ ایمنٹسی ا نٹرنیشنل کی رپورٹ مرتب کرنے والی خاتون نازیہ حسین نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ افغانستان کی عورتوں میں سخت مایوسی ہے ۔ وہ سمجھتی تھیں کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ان کی حالت میں تبدیلی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ افغانستان کی وزارت خواتین کی ترجمان نے کہاکہ افغانستان کے شہری علاقوں جہاں حکومت کا کنٹرول ہے وہاں عورتوں کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے دیہاتی علاقوں میں عورت کی حالت زار میں کم تبدیلی آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||