سانفرانسسکو سے کابل تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مینا شیرزائے اپنے سفارتکار والد سے ملنے چیکوسلواکیہ میں تھیں جب انہیں پتا چلا کہ روسی ٹینکوں نے ان کے وطن افغانستان پر چڑھائی کر دی ہے۔ مینا شیرزائے کی عمر تینتالیس برس ہے اور انہیں اب بھی یاد ہے کہ انیس سو اناسی کی سردیوں میں ان کے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے ملک نہیں لوٹیں گی جہاں غیر ملکیوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ مینا شیرزائے کے خاندان نے جب جلاوطنی کی زندگی شروع کی اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس تھی اور وہ کابل کے ایک ہائی سکول سے گریجویشن مکمل کر چکی تھیں۔ ان کا خاندان ریل گاڑی کے ذریعے پراگ سے جرمنی کے شہر فرینفورٹ پہنچا اور پھر وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے لندن آ گیا۔ یہ لوگ لندن سے کیلیفورنیا پہنچے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آئندہ بیس برس گزارے۔ مینا شیرزائے نے امریکہ پہنچ کر جلد ہی خود کو نئی زندگی کے مطابق ڈھال لیا۔ سخت محنت کرنا شروع کر دی، ایک افغان مرد سے شادی کے بعد دو بچیوں کی پرورش میں مصروف ہو گئیں۔ مینا شیرزائے نے عملی زندگی کے سفر کا آغاز دواؤں کے ایک سٹور پر بحیثیت کیشیئر کیا۔ اس کے بعد ایک وکیل کی سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا اور بالآخر سان فرانسسکو بے کے علاقے میں لگژری ہومز کے کاروبار کا آغاز کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ مینا شیرزائے نے جنگ کے باعث بےگھر ہو جانے والے افغانوں کے لیے فنڈز بھی جمع کیے۔
جلاوطنی کے اس دور میں کامیابی اور صحت مینا شیرزائے کا مقدر بنی۔ اس کے برعکس مینا شیرزائے کے ہم وطن پاکستان اور ایران میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ مینا شیرزائے کا کہنا ہے کہ کابل واپس جانا ان کی دلی تمنا تھی۔ پرانی یادیں دہراتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ کابل میں سہ رویا شاہراہیں تھیں جہاں خواتین بجلی سے چلنے والی بسیں چلاتی تھیں اور بازاروں میں لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد ان کے ملک واپس جانے کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔ مینا شیرزائے کی حیرانگی کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہیں پتا چلا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے یہ قدم اٹھا کر افغانستان کو سب سے الگ تھلگ کر دیا۔ دو برس قبل مینا شیرزائے اور ان کے ایک امریکی دوست نے کابل کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہوائی جہاز لینڈ ہونے سے پہلے میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ نہ جانے کابل کیسا ہو گا کیونکہ میں نے بہت ہی خوفناک خبریں سن رکھی تھیں۔ لیکن زمین پر اتر کر بہت اچھا لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے گھر آ گیا ہو۔‘ کابل میں تین ہفتے کے قیام کے دوران مینا شیرزائے نے فیصلہ کیا کہ ’ کابل کے لیے کچھ کرنےکا وقت آ گیا ہے۔‘ انہوں نے خواتین کو نئے ہنر سکھانے کا فیصلہ کیا جو کہ کسی بھی طرح آسان نہ تھا۔ انہیں ایک مقامی مسجد میں مدعو کیا گیا جہاں تقریباً چار سو خواتین پہلے ہی ان کے انتظار میں تھیں۔ مینا شیرزائے کہتی ہیں کہ اب تقریباً دس ہزار خواتین کپڑے سینے، کمپیوٹر پر کام کرنے، بنیادی صحافت اور قانون کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||