خواتین کا ناچ گانا بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں حکام نے مقامی ٹیلی ویژن پر خواتین کےناچ گا نوں پر پابندی عائد کردی ہے- جلال آباد ٹیلی ویثرن کے ڈائریکٹر سید غفار نے پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ گورنر ننگرہار حاجی دین محمد کی جانب سے ایک حکم نامے میں کیاگیا ہے جو گزشتہ روز جاری کیاگیا۔ انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ناچ گانا ہمارے مذہب اسلام ، ثقافت اور روایات کے خلاف ہے لہذا اس کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔ انہوں نے مزید معلومات دینے سے معذرت ظاہر کر دی۔ حکام کے مطابق صرف خواتین کے گانوں پر پابندی ہوگی جبکہ باقی مقامی نشریات چلتی رہیں گی- 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں خواتین کے حوالے سے یہ اپنے نوعیت کا پہلا اقدام ہے- طالبان اسلامی ملیشیاء نےاپنے پانچ سالہ دور حکومت میں لڑکیوں کی سکولوں کو مکمل طور پر بند کیا تھا جبکہ خواتین کے سرکاری ملازمتوں میں آنے پر بھی پابندی عائد کی تھی- جلال آباد کے مقامی ٹی وی سے روزانہ تین گھنٹے کی ٹرانسمیشن نشر ہوتی ہے جو مغرب کے وقت شروع ہوتی ہے- ان پروگراموں میں اسلامی تعلیمات کے پروگرام، خبریں، مقامی ٹاک شو، فلم، تبصرے اور موسیقی کے پروگرام شامل ہوتے ہیں- ننگرہار میڈیکل کالج کے ایک طالب علم حزب اللہ نے کہا کہ مقامی ٹی وی پر خواتین کے گیتوں پر پابندی انکی سمجھ سے باہر ہے- انھوں نے کہا کہ جلال آباد شہر کے زیادہ تر گھروں میں لوگوں نے کیبل لگائے ہوئے ہیں جس پر تیس سے زائد چینل آتے ہیں لیکن ان پر پابندی کی بات کوئی نہیں کرتا حالانکہ یہ سارے چینل غیر ملکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||