توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کیا جائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالتِ عظٰمی نے پیر کو یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کو شائع کرنے والے اخبارات کے مدیران اور خاکے بنانے والے فرد کے خلاف توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم ایک تین رکنی بنچ نے دو درخواستوں کی سماعت کے دوران ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو توہین رسالت کا کیس اس لیئے درج کرنا چاہیئے تاکہ مستقبل میں یہ توہین رسالت کرنے والوں کے لیئے ایک سبق ہو۔ مولوی اقبال حیدر اور ڈاکٹرعمران اپل نامی دو افراد نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ جن ویب سائٹس پر یہ توہین آمیز خاکے شائع کیئےگئے ہیں حکومت پاکستان ان پر پابندی لگائے اور پولیس ان خاکوں کو شائع کرنے والے یورپی اخبارات کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرے۔ سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا اطلاق غیر ملکیوں پر نہیں ہوتا ہے اور کیونکہ یہ جرم پاکستان کی سرزمین سے باہر کیا گیا ہے لہذا یہ پاکستانی قانون کی دسترس میں نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور توہین رسالت کے قانون کی دفعہ دو سو پچانوے کے تحت یورپی اخبارات کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس قانون کے تحت توہین رسالت کے مرتکب فرد کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔ مولوی اقبال حیدر کے وکیل ابراہیم ستی نے اس کیس میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے مبارک علی کیس میں کہا تھا کہ کسی جرم میں ضروری نہیں ہے کہ ملزم ملک کی سرزمین پر موجود ہو۔ | اسی بارے میں کارٹون: کراچی میں’ملین مارچ‘05 March, 2006 | پاکستان پاکستان میں کارٹون احتجاج جاری24 February, 2006 | پاکستان کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان ’احتجاجی تحریک مجلس عمل کی نہیں‘20 February, 2006 | پاکستان کارٹون: کراچی میں کفن پوش ریلی19 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||