’توہینِ قرآن‘ کا دوسرا ملزم ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ جون کو حاصل پور میں مبینہ طور پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں توہین قرآن کے الزام میں تشدد کا نشانہ بننے والے امام مسجد قمر جاوید بھٹی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں۔ یوں اس پر تشدد واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہوگئی ہے۔ہلاک ہونے والے دوسرے شخص قمر بھٹی کے ساتھی ساٹھ سالہ ماسٹر محمد صادق تھے جو وقوعہ کے روز ہی شدید زخمی حالت میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ حاصل پور کے قصبے چھونا والا کے رہائشی قمر بھٹی نے بھی بہاولپور کے اسی ہسپتال میں آٹھ روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جمعہ کی رات دم توڑ دیا۔ انہیں سنیچر کے روز ان کے آبائی گاؤں نصیر گنج میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیئے سخت حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے۔ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھنے والے قمر بھٹی پر بریلوی مسلک کے کچھ لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے گندگی کے ڈھیر کے پاس قرآن پاک اور دوسری مقدس کتابوں کو نذر آتش کیا ہے۔ اس پر مشتعل ہوکر بیسیوں لوگوں نے قمر بھٹی کو زدوکوب کرنا شروع کردیا جس پر ماسٹر صادق انہیں بچانے آئے تو لوگوں نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں نے قمر بھٹی اور ماسٹر صادق کو ’مشتعل ہجوم‘ کے نرغے سے نکال کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا اور پولیس انہیں چھونا والا میں قائم اپنی چوکی پر بھی لے گئی تھی لیکن تھوڑی دیر بعد پولیس کی ایک گاڑی انہیں لے کر دوبارہ مشتعل ہجوم کی طرف آ نکلی۔ لوگوں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو ایک شخص محمد ندیم اس کی ٹکر سے معمولی زخمی ہوگیا لیکن یہ افواہ پھیل گئی کہ ’توہین قرآن‘ کے مرتکب افراد کو بچاتے ہوئے پولیس کی گاڑی ایک شخص پر چڑھ گئی ہے۔ اس پر پہلے سے مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کر دیا، جس پر اس میں موجود ڈرائیور اور ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھاگ کھڑے ہوئے۔ تاہم لوگ گاڑی کی پچھلی جانب بیٹھے قمر بھٹی اور ماسٹر صادق کو گھسیٹ کر باہر نکال لائے اور انہیں مار مار کر بے ہوش کردیا۔ چھونا والا پولیس چوکی کے ایک اہلکار کے مطابق پولیس دونوں زخمیوں کو مرہم پٹی کے لیئے ہسپتال لے جانا چاہتی تھی لیکن ڈرائیور نے متبادل راستہ اختیار کرنے کی بجائے غلطی سے گاڑی کو اس راستے پر ڈال دیا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں موجود لوگ احتجاج کر رہے تھے۔ تاہم حاصل پور پولیس کے ڈی ایس پی ناصر سیال اس واقعہ میں پولیس کی کسی قسم کی غفلت کو نہ مانتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو لوگ قمر بھٹی اور ماسٹر صادق کو مار مار کر بری طرح زخمی کر چکے تھے۔ قمر بھٹی چھونا والا کی واحد (زیر تعمیر) مسجد اہلحدیث کے امام جبکہ ماسٹر صادق متولی تھے جبکہ چھونا والا میں آبادی کی غالب اکثریت بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ پولیس نے ماسٹر صادق اور قمر بھٹی کے خلاف توہین قرآن جبکہ ان پر حملہ اور قتل کرنے کے الزام میں بائیس افراد کے خلاف مقدمات درج کیئے تھے۔ تاہم واقعہ کو نو روز گزر جانے کے باوجود قتل کے مقدمے میں نامزد کیئے گئے کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ | اسی بارے میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل16 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان قرآن جلانے کا ملزم گرفتار19 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||