قرآن جلانے کا ملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نواحی علاقے میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کو جلانے کے الزام میں پولیس نے ایک مقامی دکاندار کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم بظاہر یہ سمجھتا تھا کہ قرآن کو جلا کر وہ ایسا جادوکر سکےگا جس کے نتیجے میں اس کی روٹھی ہوئی بیوی واپس گھر آجائےگی۔ تھانہ فیروز والہ کے ڈیوٹی افسر نے بی بی سی کوبتایا کہ سگریٹ اور ٹھنڈے مشربات کی چھوٹی سی دکان کے مالک آصف عرف آصی کو کل اس کے ہمسائیوں نے اپنے گھر کے صحن میں مبینہ طور پر قرآن کے ایک نسخے کو جلاتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایک مکین چودھری محمد اشرف نے پولیس کو بتایا کہ لوگوں نے اسے منع کرنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ گیا۔مقامی لوگوں نے پانی پھینک کر قرآن کے جلتے ہوئے اوراق بجھائے۔ پولیس اہلکار محمد رفاقت کے مطابق محمد آصف عرف آصی کی بیوی روٹھ کر بچوں سمیت اپنے میکے لاہور گئی ہوئی تھی اور اس کے بار بار منانے کے باوجود واپس نہیں آرہی تھی اور ملزم روٹھی بیوی کو منانے کے لیے جادو کرنا چاہتا تھا۔اس کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی بیوی جادو کے زور پر گھر واپس آجائے۔
پولیس ریکارڈ کےمطابق ملزم کو پیر کو لاہور سے گرفتار کیا گیا اور عدالتی تحویل پر جیل بھجوا دیا گیا۔ تھانے کے ڈیوٹی افسر کا کہنا تھا کہ جلا ہوا قرآن ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت ہے اس لیے پولیس نےاس کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے اے کے تحت توہین مذہبی عقائد کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی سزا دس سال قید بامشقت ہوسکتی ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی پنجاب کے ایک شہر حاصل پور میں مبینہ طور پر قرآن جلائے جانے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ اتوار کو ہونے والے واقعہ کے بعد فیروز والہ کے گاؤں ماچھیکے سندھواں میں بھی اس بارے میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ تھانہ فیروز والہ کے انسپکٹر محمد اطہر نے کہا کہ اگر ملزم پولیس کے بجائے مقامی لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کی جان کو خطرہ تھا۔ | اسی بارے میں توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل16 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کاملزم ہلاک12 January, 2005 | پاکستان ’قرآن کی بےحرمتی‘ پر اشتعال06 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||