BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 23:18 GMT 04:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرآن جلانے کا ملزم گرفتار

ملزم مبینہ طور پر قرآن کو جلا کر جادو کرنا چاہتا تھا تاکہ روٹھی بیوی گھر واپس آجائے
لاہور کے نواحی علاقے میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کو جلانے کے الزام میں پولیس نے ایک مقامی دکاندار کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم بظاہر یہ سمجھتا تھا کہ قرآن کو جلا کر وہ ایسا جادوکر سکےگا جس کے نتیجے میں اس کی روٹھی ہوئی بیوی واپس گھر آجائےگی۔

تھانہ فیروز والہ کے ڈیوٹی افسر نے بی بی سی کوبتایا کہ سگریٹ اور ٹھنڈے مشربات کی چھوٹی سی دکان کے مالک آصف عرف آصی کو کل اس کے ہمسائیوں نے اپنے گھر کے صحن میں مبینہ طور پر قرآن کے ایک نسخے کو جلاتے ہوئے دیکھا تھا۔

ایک مکین چودھری محمد اشرف نے پولیس کو بتایا کہ لوگوں نے اسے منع کرنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ گیا۔مقامی لوگوں نے پانی پھینک کر قرآن کے جلتے ہوئے اوراق بجھائے۔

پولیس اہلکار محمد رفاقت کے مطابق محمد آصف عرف آصی کی بیوی روٹھ کر بچوں سمیت اپنے میکے لاہور گئی ہوئی تھی اور اس کے بار بار منانے کے باوجود واپس نہیں آرہی تھی اور ملزم روٹھی بیوی کو منانے کے لیے جادو کرنا چاہتا تھا۔اس کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی بیوی جادو کے زور پر گھر واپس آجائے۔

پولیس نے ریمانڈ کیوں نہیں لیا
تھانے کے ڈیوٹی افسر کا کہنا تھا کہ جلا ہوا قرآن ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت ہے اس لیے پولیس نےاس کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت محسوس نہیں کی

پولیس ریکارڈ کےمطابق ملزم کو پیر کو لاہور سے گرفتار کیا گیا اور عدالتی تحویل پر جیل بھجوا دیا گیا۔

تھانے کے ڈیوٹی افسر کا کہنا تھا کہ جلا ہوا قرآن ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت ہے اس لیے پولیس نےاس کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے اے کے تحت توہین مذہبی عقائد کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی سزا دس سال قید بامشقت ہوسکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی پنجاب کے ایک شہر حاصل پور میں مبینہ طور پر قرآن جلائے جانے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

اتوار کو ہونے والے واقعہ کے بعد فیروز والہ کے گاؤں ماچھیکے سندھواں میں بھی اس بارے میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ تھانہ فیروز والہ کے انسپکٹر محمد اطہر نے کہا کہ اگر ملزم پولیس کے بجائے مقامی لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کی جان کو خطرہ تھا۔

اسی بارے میں
توہین رسالت کا ملزم قتل
16 June, 2006 | پاکستان
توہین رسالت کاملزم ہلاک
12 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد