’توہینِ مذہب کیس ریاستی اجازت سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے کے ایک ملزم کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقدمہ وفاقی یا صوبائی حکومت یا اس کے مجاز اہلکار کی اجازت کے بغیر درج نہیں کیا جاسکتا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فضل میراں چوہان نے سیالکوٹ کے گاؤں پرانوالہ کے رہائشی محمد یوسف کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ توہین مذہب کسی فرد کے خلاف جرم نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔ ملزم محمد یوسف کو اس سال تیس مئی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) کے تحت مقامی امام مسجد کی شکایت پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) جان بوجھ کر اور شر انگیزی سے کسی شخص کے مذہبی عقائد کی توہین کرنے سے متعلق ہے۔ امام مسجد نے یوسف پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اسلامی عقائد کے بارے میں توہین آمیز باتیں کیں تھیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) کے تحت کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سیالکوٹ کے مقامی میجسٹریٹ نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ عدالت عالیہ لاہور نے محمد یوسف کے مقدمہ میں اپنے فیصلہ میں کہاہے کہ دو سو پچانوے (اے) اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو چھیانوے کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دفعہ فرد کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم سے متعلق ہے۔ جج نے کہا کہ چونکہ اس مقدمہ میں یہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اس لیے تمام کاروائی غیر قانونی ہوگی۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے مطابق انیس سو اٹھاسی سے سنہ دو ہزار پانچ تک ملک میں ساڑھے چھ سو افراد کے خلاف توہین مذہب، توہین قران اور توہین رسالت کے قانون تعزیرات پاکستان دو سو پچانوے (اے، بی اور سی) کے تحت مقدمہ درج کیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں توہینِ رسالت پر سزائے موت12 November, 2003 | پاکستان توہین اسلام: شادی کارڈ پر مقدمہ06 October, 2004 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم مر گیا29 May, 2004 | پاکستان جائے نماز جلانے پر مقدمہ01 March, 2004 | پاکستان کبھی موت کی سزا کبھی بری13 January, 2004 | پاکستان ’مجھ سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی‘12 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||