BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 October, 2006, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’توہینِ مذہب کیس ریاستی اجازت سے‘

لاہور ہائی کورٹ
عدالت عالیہ لاہور نے کہا کہ دو سو پچانوے (اے) اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو چھیانوے کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ریاست کے خلاف جرم سے متعلق ہے
لاہور ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے کے ایک ملزم کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقدمہ وفاقی یا صوبائی حکومت یا اس کے مجاز اہلکار کی اجازت کے بغیر درج نہیں کیا جاسکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فضل میراں چوہان نے سیالکوٹ کے گاؤں پرانوالہ کے رہائشی محمد یوسف کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ توہین مذہب کسی فرد کے خلاف جرم نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔

ملزم محمد یوسف کو اس سال تیس مئی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) کے تحت مقامی امام مسجد کی شکایت پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) جان بوجھ کر اور شر انگیزی سے کسی شخص کے مذہبی عقائد کی توہین کرنے سے متعلق ہے۔

امام مسجد نے یوسف پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اسلامی عقائد کے بارے میں توہین آمیز باتیں کیں تھیں۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (اے) کے تحت کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

سیالکوٹ کے مقامی میجسٹریٹ نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

عدالت عالیہ لاہور نے محمد یوسف کے مقدمہ میں اپنے فیصلہ میں کہاہے کہ دو سو پچانوے (اے) اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو چھیانوے کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دفعہ فرد کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم سے متعلق ہے۔

جج نے کہا کہ چونکہ اس مقدمہ میں یہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اس لیے تمام کاروائی غیر قانونی ہوگی۔

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے مطابق انیس سو اٹھاسی سے سنہ دو ہزار پانچ تک ملک میں ساڑھے چھ سو افراد کے خلاف توہین مذہب، توہین قران اور توہین رسالت کے قانون تعزیرات پاکستان دو سو پچانوے (اے، بی اور سی) کے تحت مقدمہ درج کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
توہینِ رسالت پر سزائے موت
12 November, 2003 | پاکستان
جائے نماز جلانے پر مقدمہ
01 March, 2004 | پاکستان
کبھی موت کی سزا کبھی بری
13 January, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد