BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2003, 08:33 GMT 13:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھ سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی‘

کرشن شرما کی رہائی کے لئے علامتی بھوک ہڑتال
حکومت نے شرما کو چپکے سے رہا کر دیا

تقریباً آٹھ ماہ تک فوج کے خفیہ ادارے کی حراست میں رہنے کے بعد ضلع تھر کے ہیڈکوارٹر مٹھی سے تعلق رکھنے صحافی اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے کارکن کرشن شرما کو رہا کردیا ہے۔

سندھ کے ریگستانی علاقے تھر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن کرشن شرما کو اکیس مارچ کوخفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب وہ بذریعہ کوچ مٹھی سے کراچی جا رہے تھے۔

گزشتہ روز اپنی رہائی کے بعد بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فوجی خفیہ ایجنسی نے ملک دشمن سرگرمیوں کے شبہ میں انہیں حراست میں لیا تھا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان کی والدہ کی اپیل پر انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے۔

اپنی خفیہ ایجنسی

 مجھے اپنے ملک کی فوج کی ایک ایجنسی نے شک کی بنیاد پر حراست میں لیا تھا۔

کرشن شرما

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں علم ہے کہ ان کی گرفتاری اور حراست کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیا تھا تو انہوں نے کہا کہ نہ تو اس عرصہ میں ان کی اپنی وکیل سے بات ہوئی ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہے کہ ان کی رہائی عدالتی فیصلہ کہ بعد عمل میں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوران حراست ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی اور انہیں بالکل ویسے ہی رکھا گیا جیسے کسی مشکوک شخص کو رکھا جاتا ہے۔ ان کہنا تھا: ’ان کا ایکشن جسٹیفائڈ (انصاف پر مبنی) تھا۔ مجھے اپنے ملک کی فوج کی ایک ایجنسی نے شک کی بنیاد پر حراست میں لیا تھا۔ ہرجانہ وغیرہ طلب کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

حکام نے جاسوسی کے الزام میں کرشن شرما پر فوجی قوانین کے تحت فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم شرما کی حراست کے خلاف ان کی والدہ لیلاوتی کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چند ہفتے قبل اس مقدمے میں سرکاری موقف مسترد کردیا گیا تھا۔

آئینی درخواست پر فوج کے جج ایڈووکیٹ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے اطلاق کے بعد ہائی کورٹ درخواست کی سماعت نہیں کر سکتی۔

عدالت نے کہا تھا کہ کسی عام شہری پر سرکاری راز دشمن ملک کو افشاں کرنے کے الزام میں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

جب عدالت کے اس حکم پر حکام نے بروقت عمل درآمد نہیں کیا تو لیلاوتی کے وکلا نے عدالت میں توہین عدالت کی درخواست دائر دی۔

تین روز قبل حیدرآباد میں ایک درجن سے زائد ادیبوں اور کرشن شرما کے بچوں نے شرما کی رہائی کے لئے علامتی بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب کو کرشن شرما کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ان کے آبائی شہر مٹھی کے پولیس تھانے لے آئے جہاں پر ان کو والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا۔

کرشن شرما کی وکیل نور ناز آغا نے شرما کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ ان کے خیال میں توہین عدالت کی درخواست کے دباؤ میں آ کر حکام نے کرشن شرما کو رہا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اس درخواست کی پیروی کریں گی کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق ان کو پہلے کیوں نہیں رہا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکار کرشن کو دوبارہ گرفتار یا پریشاں نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ناجائز طور پر نظربند رکھنے پر حکام کے خلاف ہرجانہ ادا کرنے کی درخواست دی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد