توہین قرآن ، دو ملزموں کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے توہین قرآن کے الزام میں دو مسیحی افراد کو پندرہ پندرہ سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ بوٹا مسیح اور جیمز مسیح پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اس سال آٹھ ستمبر کو نشاط آباد کے علاقہ میں ایک گھر کے باہر قرآن مجید کے اوراق جلائے تھے۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ کے لوگ مشتعل ہوگئے تھے اور پولیس نے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج محمد اسلام نے فیصلہ سنایا کہ بوٹا مسیح اور جیمز مسیح پر توہین قرآن کا جرم ثابت ہوگیا ہے اور انہیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (بی) اور انسداد دہشت گردی کے قانون (اے ٹی اے) کی دفعہ سات کے تحت سزا سنائی جاتی ہے۔ دونوں ملزموں کو پچیس پچیس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں ایک ایک سال مزید قید بھگتنا ہوگی۔ | اسی بارے میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل16 June, 2006 | پاکستان ہندو جوڑا: قرآن کی بے حرمتی پر گرفتار02 September, 2005 | پاکستان توہین رسالت کاملزم ہلاک12 January, 2005 | پاکستان عقائد کی توہین کےالزام پر مقدمہ06 December, 2004 | پاکستان ’توہینِ رسالت‘ پر عمر قید، جرمانہ29 November, 2004 | پاکستان توہین اسلام: شادی کارڈ پر مقدمہ06 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||