بلوچستان پولیس، 50 خواتین افسر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان پولیس میں پچاس خواتین کو اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات کیا جا رہا ہے تا کہ صوبے میں جنسی تفریق کو ختم کیا جاسکے۔ یہ بات بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے ایک اخباری کانفرنس میں بتائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسامیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مشتہر کی جائیں گی۔ بلوچستان میں اس وقت پولیس کے نفری کوئی پچیس ہزار ہے جس میں صرف پچاس خواتین ہیں۔ ان پچاس خواتین میں چالیس کوئٹہ میں ہیں اور اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل کے عہدوں پر تعینات ہیں صرف چار انسپکٹر ہیں۔ طارق مسعود کھوسہ نے بتایا کہ مزید چار اضلاع کو لیویز سے پولیس علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب پولیس علاقوں کی تعداد بیس ہو گئی ہے۔ صرف نو اضلاع رہتے ہیں جنہیں پولیس علاقوں میں تبدیل کیا جانا ہے۔ موجودہ حکومت نے بلوچستان کے تمام علاقوں کو پولیس علاقوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بلوچستان کا پچانوے فیصد حصہ لیویز یا علاقائی پولیس کے زیر اختیار اور صرف پانچ فیصد پولیس کے کنٹرول میں ہوتا تھا۔ بلوچستان میں سیاسی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔ یہاں تک کہ مخلوط حکومت میں شامل مجلس عمل کے قائدین بھی اس کے خلاف ہیں اس سلسلے میں کئی روز تک بلوچستان اسمبلی کا بائیکاٹ بھی کرچکے ہیں۔ طارق مسعود کھوسہ نے بتایا کہ ایک ماہ میں کوئی چھپن افغانیوں کو دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جب کہ کوئی دو سو کے لگ بھگ کو سرحد عبور کرنے کی کوششوں سے روکا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’عورتیں اور ملا ملٹری اتحاد‘17 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی06 November, 2006 | پاکستان ’عورتوں کی تصاویر والے اشتہار ہٹائیں‘11 September, 2006 | پاکستان پنجاب: پانچ عورتیں قتل کر دی گئیں02 August, 2006 | پاکستان عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں08 April, 2006 | پاکستان پاکستان: عورتوں کا دن 12 فروری کیوں؟12 February, 2006 | پاکستان جاسوسی کے شبہ میں عورت کا قتل10 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||