جاسوسی کے شبہ میں عورت کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبےزابل کے ضلع میزان میں طالبان مزاحمت کاروں نے ایک عورت کو امریکی اتحادی فوجوں کے لیے جاسوسی کے الزام میں قتل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زابل کےحکام نے طالبان مزاحمت کاروں کے امریکی فوج کے لیےجاسوسی کروانے کےان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ زابل کےگورنر گلاب شاہ علیخیلی کے ایک ترجمان نے بدھ کو بتایا کہ طالبان نے میزان ضلع کے بکارزوں گاؤں سے تعلق رکھنے والے روزی خان کی بیوی کو جاسوسی کے شبہ میں قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے اس عورت کے قتل کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر تعلیم یافتہ عورت تھی جسے لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اور نہ ہی وہ آزادانہ بازاروں میں گھوم پھر سکتی تھی۔ ’جس جگہ اس کی رہائش تھی اس کے آس پاس اتحادی فوجوں کا کوئی بیس موجود نہیں ہے کہ وہ کسی سے کوئی رابطہ رکھ سکتی ہو‘۔ حکومت کے ان دعووں کی تردید کرتےہوئےطالبان کے ترجمان مفتی لطیف اللہ نے کہا کہ امریکی اتحادی فوجوں نے میزان اور شیر سفا ضلعوں میں اچانک حملے شروع کر دیے جس کے نتیجے میں طالبان جنگجوؤں کو بھاری جان ومال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ طالبان جنگجومارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ کچھ لوگ طالبان کی موجودگی کے بارے میں امریکی فوجیوں کو آگاہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی طالبان نے اطراف میں ان جاسوں کی تلاش کا کام شروع کیا اور دو عورتوں سمیت چار افراد کوگرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں روزی خان کی بیوی بھی شامل تھی جس کے قبضے سے ایک سیٹ لائٹ فون بھی برآمد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دوران گرفتاری اس عورت نے امریکی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عورت کو پھانسی دی گئی جبکہ باقی تین افراد کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||