امریکی سلطنت کا عروج و زوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی مورخ نائل فرگوسن، ’ کلوسس‘ نامی اس کتاب میں امریکہ کے عروج کی تاریخ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو مان لینا چاہیے کہ وہ ایک سامراجی طاقت ہے اور اسے دنیا کی بدمعاش ریاستوں جیسے صدام حسین کے عراق وغیرہ کو صرف فوجی طور پر فتح ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ وہاں طویل عرصہ تک رہنا چاہیے تاکہ ان ملکوں کی قومی تعمیر کی جاسکے جیسا کہ امریکہ سے پہلے برطانوی سلطنت نے اپنی نوآبادیات کے ملکوں کے ساتھ کیا۔ مصنف نائل فرگوسن کے خیالات واضح طور پر سامراجی طاقت ہونے کے حق میں ہیں اور وہ اس کے فوائد گنواتے ہیں۔ یہ بات بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی یا انہیں اس سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ کتاب بہت دلچسپ اورمعلومات سے بھرپور ہے۔ نائل فرگوسن نے نائل فرگوسن کا کہنا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اب تک ستر سلطنتیں وجود میں آئی ہیں جن میں سے امریکہ اٹہترویں سلطنت اور چین انہترویں جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں یورپی یونین سترویں سلطنت ہے۔وہ یورپی یونین کی طاقت اور کمزوریوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ کے مقابلے میں اگر کوئی اور سلطنت بنی تو وہ یورپی یونین ہی ہوسکتی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ قومی ریاست کا تصور انسانی تاریخ میں نسبتاً ایک نئی بات ہے جبکہ جب سے تحریری ریکارڈ موجود ہے سلطنتیں موجود رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سلطنت کا مطلب ہے کسی ایک تہذیب کا فوجی قوت کے ذریعے خود کو توسیع دینا اور دوسرے لوگوں پر حکومت کرنا۔ مصنف کہتے ہیں کہ عراق میں فوجیں تعینات کرنے سے پہلے بھی امریکہ کے دنیا کے ایک سو تیس ملکو ں میں سات سو پچیس تنصیبات موجود تھیں اور امریکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ان میں سے پینسٹھ تنصیبات پر تعینات تھی۔ امریکہ کا فوجی بجٹ دنیا کے ایک سو نواسی ملکوں کے فوجی بجٹ کے پینتالیس فیصد کے برابر ہے اور اپنے سے بعد کی بڑے پندرہ اقوام کے مجموعی فوجی بجٹ کے برابر ہے۔ نائل فرگوسن کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار دو میں امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار دنیا کی کل قومی پیداوار کا ساڑھے اکیس فیصد تھی اور چین سے دگنا تھی جبکہ جاپان، جرمنی اور برطانیہ کی پیداوار کے مجموعے سے زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی کثیر قومی کمپنیوں کا دنیا پر غلبہ ہے جیسے امریکی کمپنی میکڈونلڈ کے ایک سو بیس ملکوں میں تیس ہزار سے زیادہ ریسٹورنٹ ہیں جن میں سے صرف پونے تیرہ ہزار امریکہ کے اندر ہیں۔ فرگوسن بتاتے ہیں کہ دنیا کی اکیاسی سب سے بڑی ٹیلی مواصلات کی کمپنیوں میں سے انتالیس کمپنیاں امریکی ہیں۔ دنیا کے آدھے ملکوں کے سینما گھر امریکی فلموں پر چلتے ہیں جبکہ لاطینی امریکہ کے ملکوں کے پچھہتر فیصد ٹیلی وژن پروگرام امریکی ہوتے ہیں۔ نائل فرگوسن کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی میں ایک سلطنت کا موجود ہونا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں امریکہ کا اپنا فائدہ بھی ہے اور اس کے جذبہ اخوت کا تقاضا بھی یہ ہے۔ وہ امریکہ کو ایک لبرل سلطنت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ دنیا میں اجتماعی نسلی قتل جیسے بوسنیا میں مسلمانوں کا اور روانڈا میں ہوتو آبادی کے پانچ لاکھ افراد کا قتل روکنے میں ناکامیاب ہوگئی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج کی بڑی طاقتوں کے مفادات کا کلیرنگ ہاؤس ہے۔ جب یہ امریکی پالیسی کو جواز مہیا کرتی ہے تو یہ کارآمد ہے اور جب یہ ایسا نہیں کرتی تو یہ محض ایک زچ کرنے والی شے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا کُل بجٹ امریکہ کے وفاقی بجٹ کے اعشاریہ صفر سات کے برابر ہے اور امریکہ کے فوجی بجٹ کے اعشاریہ چار کے برابر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا مجموعی سالانہ بجٹ اتنا ہے جتنی رقم امریکہ کا فوجی محکمہ پینٹاگون بتیس گھنٹوں میں خرچ کرتا ہے۔ نائل فرگوسن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہ صلاحیت تو ہے کہ وہ فوجی قوت استعمال کرکے اقوام متحدہ کی مدد کے بغیر کسی ملک میں حکومت تبدیل کردے جیسا اس نے سرب حکمران سلابودین ملاسووچ، طالبان اور صدام حسین کے ساتھ کیا لیکن امریکہ ان ملکوں میں قومی تعمیر کا کام اکیلا نہیں کرسکتا۔ ان کا موقف ہے کہ امریکہ ایک سلطنت تو ہے لیکن امریکیوں کا ذہن استعماری نہیں۔ وہ زیادہ دیر تک کسی چیز پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ امریکی کسی ملک میں زیادہ دیر ٹھہرنا نہیں چاہتے اور جلد نکلنا چاہتے ہیں۔وہ فتح کرنے سے زیادہ خرچ کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور قوموں کی تعمیر سے زیادہ شاپنگ مال بنانا چاہتے ہیں۔ امریکی طویل عمر پاکر مرنے کو فوجی لڑائی میں کم عمر میں مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مورخ کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی سلطنت کو ایک بڑا مسئلہ آبادی میں کمی کی وجہ سے بھی ہے۔ انیس سو ستر میں امریکی فوج میں تیس لاکھ لوگ تھے اور اب صرف چودہ لاکھ لوگ ہیں۔ جب امریکی فوجیوں کو ملک سے باہر تعینات کیا جاتا ہے تو یہ تقرری زیادہ دیر کے لیے نہیں ہوتی۔ اسی طرح پڑھے لکھے امریکی بھی اپنے ملک میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں اور مقبوضہ ملکو ں میں مستحکم معاشی اور سیاسی اداروں کی تعمیر کے لیے امریکہ کے پاس منتظمین کی کمی ہے۔ فرگوسن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں آئی وی لیگ کے تعلیم یافتہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ کسی ملک میں جائیں، مرکزی بنک قائم کریں، ٹیکس نظام کی اصلاحات متعارف کرائیں، عوام مفاد کے بڑے اداروں کی قیمتوں کو آزاد کریں اور ان کی نجکاری کریں اورفرسٹ کلاس ری یونین کے لیے گھر واپس آجائیں۔ قومی تعمیر میں امریکہ کی عدم دلچسپی کا حال فرگوسن یوں سناتے ہیں کہ جون سنہ دو ہزار تین تک افغانستان کی تعمیر کے لیے دی جانے والی امداد میں سے نوسو سینتالیس ملین ڈالر تو عملہ کے گاڑیوں اور کمپیٹروں جیسے سامان پر خرچ کیا گیا تھا جبکہ اصل منصوبوں پر صرف ایک سو بانوے ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے اور امریکہ کا حصہ اس میں صرف پانچ ملین ڈالر تھا۔ فرگوسن بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے وقت امریکہ دنیا کے ملکوں کو امداد کے طور پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً پونے دو فیصد رقم دیتا تھا جبکہ اب بیرون ملک دی جانے والی امداد امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار کے صفر اعشاریہ دو فیصد کے برابر ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ دو سو سال میں بہت سے ملکوں پر قبضہ کیا لیکن وہ صرف چند ملکوں میں معاشی اور سیاسی ادارے بنا سکا جبکہ ویتنام، کیوبا اور ہیٹی میں اسے بری طرح شکست ہوئی۔ فرگوسن کے خیال میں امریکی سلطنت کو فوجی اخراجات یا دہشت گردی سے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اپنے فلاحی نظام کی مالیات سے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مالیاتی نظام میں پینتالیس کھرب ڈالر کا سوراخ ہے اور اس میں سے بیاسی فیصد حصہ شہریوں کو طبی سہولتوں کے لیے دی جانے والی سرکاری امداد کا ہے۔ انیس سو پچاس کے بعد سے امریکہ دنیا کا سب سے بڑا قرض لینے والے ملک ہے اور اس کے بیرونی قرضے اس کی مجموعی پیداوار کے ایک چوتھائی کے برابر ہیں۔ فرگوسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے وفاقی بجٹ کا چھیالیس فیصد بیرونی سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں ہے۔ ایشیائی اقوام جیسے چین اور ہانگ کانگ امریکی ڈالر بانڈ خریدتے ہیں تاکہ ان کی کرنسیوں کی قیمت بڑھنے نہ پائے۔ سنہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک صرف دو سال میں چین اور ہانگ کانگ نے چھیانوے ارب ڈالر مالیت کی امریکی حکومت کی سیکیورٹی بانڈ خریدے تھے۔ فرگوسن بتاتے ہیں چین اپنے ملک کی بچتوں کو امریکہ کے تجارتی اور بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے اور یوں ریاستحائے متحدہ کا انحصار عوامی جمہوریہ چین کے مرکزی بنک پر ہے۔ مصنف کا موقف کہ اگرچہ دہشت گردوں نے امریکہ کا دروازہ کھٹکٹا دیا ہے لیکن اگر امریکہ کا زوال ہوا تو سلطنت روم کی طرح اندرونی عوامل کی وجہ سے ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||