’فلاحی شعبہ سرمایہ کی زد میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک ٹراٹسکیائی اشتراکی گروپ مزدور جدوجہد نے بائیں بازو کے دانشور طارق علی کی بنیاد پرستی کے عنوان سے انگریزی میں لکھی گئی کتاب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ’بنیاد پرستیوں کا تصادم، صلیبی جنگیں، جہاد اور جدیدیت‘۔ طارق علی اشتراکی خیالات کے حامل دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن اس کتاب میں انہوں نے مسلمانوں کو موجودہ صورتحال اور عالمی سرمایہ داری سے نمٹنے کے لیے اسلامی اصلاح پسندی کا نسخہ تجویز کیا ہے۔ وہ قدامت پسند اسلامی تحریکوں اور مغرب کے لبرل ازم دونوں کو بنیاد پرست سمجھتے ہیں جو اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ طارق علی نے اس کتاب میں پیشنگوئی کی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ الٹی پڑ جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ غصہ اور مایوسی مل کر عرب دنیا اور باقی جگہوں پر نوجوانوں کو باور کرائے گا کہ ’ریاستی دہشت گردی‘ کا جواب صرف ’انفرادی دہشت گردی‘ کی صورت میں دیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کا زیادہ دلچسپ اور تجزیاتی حصہ چوتھا باب ہے جس میں طارق علی نے امریکہ (جسے وہ امریکی سامراج کہتے ہیں) کی تاریخ، ویت نام جنگ اور سوویت یونین کے انہدام کا احوال بتانے کے بعد امریکی مفکرین فوکو یاما اور سیموئل ہنٹگن کے افکار پر بحث کی ہے اور ان کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے ہیں۔ وہ نیو لبرل ازم پر بھی تنقید کرتے ہیں جس کے نظریہ ساز ان کے مطابق وون ہائک تھے ۔ انکا کہنا ہے کہ جب امریکی صدر رونالڈ ریگن اور برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے ردانقلاب کی بنیاد رکھ دی تو نیو لبرل نظریات اور ان ردانقلابیوں کا اتحاد ہوا جس نے کرۃ ارض کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اب سرمایہ دارانہ نظام نے نیا کام یہ کیا ہے کہ سٹے بازی کو عالمی اقتصادی منڈیوں کی مرکزی خصوصیت تسلیم کرلیا ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ نجی سرمایہ کو سماجی تانے بانے میں میوچل اور پنشن فنڈز کی بڑے پیمانے پر مارکیٹنگ کے ذریعے داخل کردیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈبلیو ٹی او کی ترجیح ہے کہ تعلیم، صحت، بہبود، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کی نج کاری کو تیز کیا جائے کیونکہ مینوفیکچرنگ شعبہ میں منافع کی شرح کم ہوگئی ہے اور مغربی سرمایہ داری اب پبلک شعبے کا رخ کررہی ہے جو پہلے اس سے پاک تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ملکی پیداوار کے فلاحی شعبے پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔طارق علی عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے حامی دانشوروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تمام سیاسی جذبات بھلا دو اور انہیں دیکھ کر برتولت بریخت کی نظم کا یہ عنوان یاد آتا ہے کہ’سات سو دانشور ایک آئل ٹینکر کے آگے جھکےہیں‘۔ طارق علی کا کہنا ہے کہ عالمگیر سرمائے اور سامراجی آقاؤں کا قدرتی رجحان ریاستوں کو توڑنے کی طرف ہے نہ کہ انہیں متحد رکھنے کی طرف۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی مزاحمت کرنے کے لیے علاقائی اتحادوں اورایک نئے طرز کی حکومت کی ضرورت ہے۔ طارق علی یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد بے حسی کا شکار کیوں ہے؟ وہ خود پر ترس کھانے کی عادت میں اس قدر مبتلا کیوں ہے؟ ان کے آسمان پر ہمیشہ گھٹائیں کیوں ڈیرہ ڈالے رہتی ہیں؟ وہ ہمیشہ کسی دوسرے پرالزام کیوں دھرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ مذہب کے ابھرنےکی ایک وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ لبرل ازم کی عالمی حکمرانی کے خلاف کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں۔ طارق علی کا مؤقف ہے کہ دنیا میں ایک ایسا ماحول ہے جس میں نامعقولیت کو پروان چڑھایا جارہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ پھلے پچاس برسوں میں مختلف ثقافتوں میں سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کی تجدید کا عمل دیکھنے میں آیا ہے اور یہ عمل ابھی جاری ہے۔ ان کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دوسرے سب راستے ان کے بقول بنیاد پرستوں کی ماں امریکی سامراج نے بند کر رکھے ہیں۔ تاہم خود طارق علی بھی اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے مذہب کا دامن ہی پکڑتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی اصلاح پسندی کی زبردست ضرورت ہے جو ان کے بقول جنونی قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کو بہا کر لے جائے اور دنیائےاسلام پر نئے خیالات کا دروازہ کھول دے جو مغرب کے پیش کردہ نظریات کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوں۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے کیا ہے اور ان کے جملوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ بعض اوقات حروف جار استعمال نہیں کرتے اور بلاوجہ ’کارن‘ اور ’پرچار‘ جیسے ہندی الفاظ استعمال کرتے ہیں جس سے قاری کو تفہیم میں مشکل پیش آتی ہے۔ ایک جگہ طارق علی نے پاکستان میں فوج کے کردار اور اس کے کاروباری اداروں کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سویلین حکومت برائے نام ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب فوج کو(جسے وہ پارٹی بھی کہتے ہیں) احساس ہوا کہ محض دفاعی بجٹ سے اس کی نہ ختم ہونے والی ضروریات پوری نہیں ہورہیں تو اس نے کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان پر اب فوج کا مکمل قبضہ ہے اور یہ واحد حکمران ادارہ ہے۔ مصنف کا تجزیہ ہے کہ اب فوج کا افسر طبقہ محض جاگیر دار خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کی اکثریت شہری پس منظر رکھتی ہے اور اسی قسم کے اثرات اور دباؤ کے زیر اثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مراعات کے ذریعے پاکستان کے فوجی افسروں کی وفاداری قائم رکھی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جیسے پہلے ہر منصوبہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف یا بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے ذریعے منظور ہوتا تھا اب ہر منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے منظور ہوتا ہے۔ طارق علی کی رائے ہے کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار صرف پاکستان پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ اگلے دس سال میں بھارت کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ طارق علی بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے حقیقی مسائل اس کے اپنے پیدا کردہ ہیں جن میں ذات پات کے خاتمے میں ناکامی، اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنا کہ کشمیری اتنی دور جاچکے ہیں کہ انہیں واپس نہیں لایا جاسکتا اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے لیےمسلسل کسی قربانی کے بکرے کی تلاش۔ طارق علی کی رائے ہے کہ جنوبی ایشیاء کی تاریخ سے تقسیم کا باب بند کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی اور سیاسی منطق کا تقاضا ہے کہ ایک جنوب ایشیائی یونین تشکیل دی جائے اور اس کنفیڈریشن میں ریاستیں رضا کارانہ طور پر شامل ہوں۔ انہوں نے تجویزکیا ہے کہ جنوبی ایشیاء اور چین کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ امریکی کی ثالثی کو خیرباد کہہ کر ایک دوسرے سے براہ راست مکالمہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو صدی کےاختتام میں انہیں اندازہ ہوگا کہ منصف کی مہربان نظروں کے سامنے وسیع سرمایہ داری بھارت اور چین کے ٹکڑے کررہی ہے۔ طارق علی ایک باب میں مختلف موضوعات پر تاریخی حوالوں، ذاتی مشاہدات اور لوگوں سے سنی ہوئی باتوں کی مدد سے بیانیہ مضمون بناتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنا تجزیہ دیتے جاتے ہیں۔ یہ قدرے بے ربط سا قصہ کہانی کا سا انداز ہے لیکن بور نہیں کرتا اور کتاب میں قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||