’عورتوں کی تصاویر والے اشتہار ہٹائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے تمام اضلاع کے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ عورتوں کی تصاویر والے اشتہارات سڑکوں سے ہٹا دیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے فقیرآباد تھانے میں فحش مواد نذر آتش کرنے کی ایک تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال کا کہنا تھا کہ تجارتی کمپنیوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیئے عورتوں کا سہارا نہ لیں۔ ’انہیں چاہیے کے وہ اپنی مصنوعات کے اہم عناصر کی تشہیر کریں نہ کہ عورتوں کی‘۔ اس موقعہ پر موجود ایس پی سٹی شیر اکبر خان نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ میں انسداد فحاشی مہم کے دوران انہوں نے ساڑھے تین سو ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ پانچ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے ان کیسوں کی تفصیل نہیں بتائی۔ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے حکومت میں آنے کے بعد سے فحاشی کے نام پر ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت وقتاً فوقتاً سی ڈیز اور دیگر مواد نذر آتش کیا جاتا رہا ہے۔ آج کی تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ حکمراں اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے کارکنوں نے رکن قومی اسمبلی صابر اعوان کی سربراہی میں تین برس قبل پشاور میں خواتین کی تصاویر والے درجنوں سائن بورڈز توڑ ڈالے تھے۔ ایم ایم اے کے کارکنوں کی جانب سے اس طرح قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مذہبی جماعتوں پر کڑی تنقید بھی ہوئی تھی۔ اُس وقت سے صوبے میں خواتین کی تصاویر والے اشتہارات پہلے ہی بند ہیں۔ بعد میں صوبائی حکومت نے عریانی و فحاشی کے خلاف مہم کو بظاہر باقاعدہ شکل دینے کے لیئے سپرنٹینڈنٹ پولیس کے عہدے کا افسر تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم کئی برس گزر جانے کے باوجود اس عہدے پر کوئی افسر تعینات نہیں کیا جا سکا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی کہ فحاشی و عریانی کے خاتمے کے لیئے وہ تاجروں سے ملاقات کریں اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس بابت تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ | اسی بارے میں پشاور میں ’بالاخانوں‘ پر حملہ11 April, 2004 | پاکستان پشاور یونیورسٹی: نیٹ کیفیز بند05 July, 2004 | پاکستان پولیس کو باجماعت نماز کا حکم22 July, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||