اسلام آباد: مزدور تنظیموں کا جلوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف سرکاری محکموں اور اداروں سے ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف منگل کو مزدور تنظیموں کے اتحاد کی اپیل پر ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ سرخ پرچم لہراتے ہوئے سینکڑوں مزدور پیدل اور گاڑیوں میں آبپارہ پہنچے جہاں جلوس نے ایک جلسے کی شکل اختیار کرلی۔ مزدورں کے ہاتھوں میں بینر اور کتبے تھے جن پر زرعی ترقیاتی بینک سے تیرہ سو ملازمین کو برطرف کرنے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر اداروں کی نجکاری کے بعد ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کرنے کی مذمت اور ان کی بحالی کے مطالبے درج تھے۔ جلوس سے خطاب کرتے ہوئے مزدور اتحاد کے ایک سرکردہ رہنما خورشید احمد اور دیگر نے حکومت کی نج کاری پالیسی پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی کمپنیوں کو وزیراعظم مراعات دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مزدوروں کا معاشی ہو رہا ہے۔ مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا حکومت فوری طور پر مداخلت کرے اور جن اداروں سے ملازمین کو برطرف کیے جانے کے نوٹس جاری ہوئے ہیں وہ واپس لیے جائیں اور زرعی ترقیاتی بینک کے برطرف کردہ تیرہ سو ملازمین کو بحال کیا جائے۔ جلوس کے شرکاء مزدوروں کا معاشی قتل بند کرو، مزدوروں کے بچوں کا نوالا مت چھینو اور حکمرانوں حیا کرو جیسے نعرے لگاتے رہے۔ آبپارہ چوک پر جلسے کی وجہ سے کافی دیر اسلام آباد کی مصروف ترین سڑک بند رہی۔ بعد میں مزدور پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں بیروزگاری میں اضافہ: رپورٹ30 October, 2004 | پاکستان اخبار پر پابندی کے خلاف احتجاج23 February, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج22 February, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں وکلاء کا احتجاجی مظاہرہ20 February, 2007 | پاکستان ’کابل ایکسپریس‘ کے خلاف احتجاج11 February, 2007 | پاکستان اے این پی: صوبائی حقوق کیلیے احتجاج03 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||